نواز شریف کے عروج اور زوال کی کہانی چوہدری عبدالستار جٹ کے قلم سے سلطان نیوز پر

0
112

نواز شریف کے عروج اور زوال کی کہانی

کالم نگار چوہدری عبدالستار جٹ

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی زندگی عروج اور زوال کی ایک داستاں ہے،کبھی ایوان اقتدار تو کبھی جیل کی سلاخیں مقدر ٹھہریں،جب ملک میں رہنا خطرناک ہوا تو ملک سے باہر دھکیل دیا گیا،کارکن انہیں نیلسن منڈیلا قرار دیتے ہیں تو سیاسی مخالفین انہیں کرپٹ،چور اور ڈاکو کے القابات سے یاد کرتے ہیں،آخرایسی کیا وجہ ہے کہ نواز شریف کو بار بار جیل جانا پڑتا ہے؟ سابق وزیراعظم نواز شریف جنہیں گزشتہ سال نااہل قرار دیا گیا جنرل ضیا الحق شہید کے دور میں سیاست سے روشناس ہوئے، انہی کے زیر سایہ تربیت ہوئی۔ اس دور میں لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981 میں وزیر خزانہ پنجاب بن گئے۔ آمریت کے زیرِ سایہ 1985 میں ہونے والے غیرجماعتی انتخابات میں قومی اور صوبائی نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ 9 اپریل 1985 کو وزیراعلیٰ پنجاب بنے، 31 مئی 1988ء کو جنرل ضیاء نے جونیجو حکومت کو برطرف کردیا تاہم میاں صاحب کو بطور نگران وزیراعلیٰ برقرار رکھا۔ جنرل ضیاء نے ایک بار نواز شریف کو اپنی عمر لگ جانے کی بھی دعا دی۔ 1988 میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کےلیے آئی جے آئی بنی۔ پیپلز پارٹی تو نہ ہاری لیکن پنجاب کی وزارت اعلیٰ ایک بار پھر میاں صاحب کے حصے میں آگئی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو 1990 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں پہلی بار میاں صاحب وزیراعظم بن گئے۔ تاہم اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہ کرسکے اور انہیں اس وقت کے صدر نے ان کے عہدے سے فارغ کردیا۔ اگرچہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے آئینی مقدمے کے بعد عہدے پر بحال کردیا لیکن جولائی 1993 میں انہیں صدر کے ساتھ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ 1997 میں ایک بار پھر الیکشن میں کامیاب ہوکر مسند اقتدار پر براجمان ہوئے لیکن یہ بہت عارضی ثابت ہوا اور دو سال بعد ہی فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے طیارہ سازش کیس کا بہانہ بنا کر چلتا کیا۔ اس بار نواز شریف کی بڑی غلطی فوج سے پنگا تھا۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کو تعینات کرنے کی کوشش کی۔ نواز شریف تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصا ف کیلئے متنازعہ بن گئے۔ عمران خان نے تین سال تک دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹا اور چین نہیں لینے دیا۔ نواز شریف حکومت کی بدقسمتی تھی کہ اسی دورانیے میں سانحہ ماڈل ٹاون پیش آگیا جس میں 14 افراد قتل اور 90 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ یہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے کارکن تھے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو انصاف دلان کیلئے انقلاب مارچ کیا اور عمران خان نے دھاندلی کے خلاف لانگ مارچ۔ شہر اقتدار میں دھرنا ہوا، آرمی چیف کی مداخلت پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سمیت 9 افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ یہ معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ پاناما لیکس کے ذریعے شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کا پول کھل گیا۔ اپوزیشن نے خوب واویلا کیا، وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں معاملہ حل کرنے کا اعلان کیا لیکن حکومتی سرد مہری سے ٹی او آرز پر اتفاق نہ ہوسکا اور معاملہ عدالت تک جاپہنچا۔ نوازشریف کو پاناما کیس میں پہلے صرف 2 ججوں نے نااہل قرار دیا اور انہیں موقع دیا کہ وہ اپنے جرائم مان لیں، لیکن نوازشریف نے جے آئی ٹی میں جانے کو ترجیح دی۔ وہاں سے ان کی کرپشن کی ہوشربا داستان سامنے آگئی۔ پھر انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جہاں سے وہ جمعہ کے مبارک دن پانچ صفر سے نااہل قرار پائے۔ پھر وہ اپیل میں گئے اور ایک اور جمعہ کے مبارک دن اپیل میں بھی نااہل قرار دیئے گئے۔ پھر انہوں نے پارلیمنٹ سے ترمیم منظور کروا کر پارٹی صدارت اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی اور سپریم کورٹ نے انہیں پارٹی صدارت سے بھی نااہل قرار دے ڈالا۔ عام انتخابات سے قبل لندن سے لاہور آئے ائیر پورٹ سے اترتے ہی انہیں احتساب عدالت سے مجرم قرار دئیے جانے کے بعد جیل میں ڈال دیا گیا،ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر بھی ان کے ساتھ قید رہے،قید کے دوران ہی اہلیہ کلثوم نواز انتقال کرگئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے ضمانت پر رہا کردیا،اس رہائی کیخلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ چل رہے ہے،العزیزیہ ،فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ آنے کو ہے جس کا آپ بھی انتظار کریں ضرور پڑھیں: نیوزہیڈلائنز23،12pmدسمبر2018 کچھ عرصہ جیل میں رکھا گیا، مقدمات چلے اور فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔ 2006 میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور فوجی حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23 اگست 2007 کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب کے پرویز مشرف پر دباو¿ کے نتیجے میں 25 نومبر 2007 کو لاہور پہنچ گئے۔ 2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بناءپر وہ تیسری بار وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔