گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج احمد پور سیال کے مسائل تحریر :سیف اللہ صدیقی احمد پور سیال

0
178

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج احمد پور سیال کے مسائل
تحریر :سیف اللہ صدیقی احمد پور سیال
ضلع جھنگ کا قدیم اور تاریخی شہر احمد پور سیال تحصیل ہیڈ کوارٹر کا درجہ رکھتا ہے جو اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے تقریباً100کلومیٹر کی مسافت پر خوشاب ،مظفر گڑھ مین روڈ پر واقع ہے ۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوسکتالیکن اس شہرمیں ہمیشہ تعلیمی سہولیات کا فقدان رہا ہے جس کی طرف شاید ہی کسی ارباب اختیار نے توجہ دی ہو ۔کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا نو تعمیر شدہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج احمد پور سیال کو ہے۔ خوشاب ،مظفر گڑھ سڑک کے کنارے چناب کالج اور مرکز خریداری گندم احمد پور سیال کے سامنے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج احمد پور سیال کا قیام عمل میں لایا گیاجس کا ماہ اگست میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے بعداس کالج کی باگ ڈور بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر گورنمنٹ ڈگری کالج گڑھ مہاراجہ پروفیسر علی عباس شاہ کو دے دی گئی جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو بطریق احسن سنبھال لیا۔اوران کی نگرانی میں کلاس فرسٹ ائیر اورکلاس تھرڈ ائیر میں داخلے شروع کر دئیے گئے اور اس وقت کالج ہذٰا میں زیر تعلیم طالبات کی تعداد300کے لگ بھگ ہے۔ ماہ ستمبر میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج احمد پور سیال میں اپنی مدد آپ کے تحت باقاعدہ کلاسز کا تو آغاز کردیا گیا لیکن تاحال تین ماہ سے بھی زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس کالج کی نہ تو S.N.E(شیڈول آف نیو ایکسپینڈیچر)منظور کی گئی ہے اور نہ ہی طالبات کے پڑھانے کے لیے عارضی بنیادوں پر C.T.Is(کالج ٹیچنگ انٹرنز)کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے ۔حتٰی کہ کالج کے دیگر امور چلانے کے نان ٹیچنگ سٹاف کی تقرری بھی عمل میں نہیں لائی گئی جس کی وجہ سے اس کالج میں زیر تعلیم طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔اس کالج کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔اپنی مدد آپ کے تحت بغیر کسی اعزازیے اور معاوضے کے13خواتین اساتذہ تین ماہ سے رضاکارانہ طور پر تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں جو کہ ان کا کالج ہذٰا پر احسان عظیم ہے وگرنہ کمر توڑ مہنگائی کے دور میں ’’مفت‘‘ پڑھانے کے لیے کون وقت نکالتا ہے۔اسی طرح چار افراد بھی رضا کارانہ درجہ چہارم کے ملازمین کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔بار بار نشاندہی کے باوجود مجال ہے جو ارباب بست وکشاد کے کان پر جوں تک بھی رینگی ہو۔محکمہ ہائر ایجوکیشن نے تو اس معاملے میں مکمل چپ سادھ رکھی ہے۔اسی لیے تو پنجاب بھر میں قائم ہونے والے36نئے ڈگری کالجز کی تاحال S.N.Eمنظور نہ ہونے کی وجہ سے یہ کالجز مسائلستان بن گئے ہیں ۔ایک طرف جہاں ٹیچنگ سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے طالبات کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے تو دوسری طرف نان ٹیچنگ سٹاف کی عدم دستیابی کی وجہ سے کالج کے دیگر امور چلانے میں شدید دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ سیکیورٹی گارڈز نہ ہونے کی وجہ سے ان کالجز میں زیر تعلیم طالبات اوردیگر عملہ کے لیے سیکیورٹی رسک پیدا ہوگئے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ غیر محفوظ ہیں۔رکن پنجاب اسمبلی حلقہ پی پی130رانا شہباز احمد خاں نے پنجاب اسمبلی کے فلور پر گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج احمد پور سیال کی بھرپور نشاندہی کی اور کالج کی ایس این ای کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ’’ڈائریکٹو‘‘ تک بھی نکلوائے لیکن ان آہ وبکابھی نقار خانے میں طوطی کی آواز کی طرح دب کر رہ گئی۔اپنے تئیں ان سے جو کچھ ہو سکاانہوں نے کیالیکن یوں لگتا ہے جیسے محکمہ ہائر ایجوکیشن نے کانوں میں روئی ٹھونس رکھی ہے اور آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے ۔اسی لیے تو ان کے کانوں تک ان مسائل کی آواز نہیں پہنچ سکتی۔اسی لیے تو انہیں پنجاب بھر کے نئے کالجز میں زیر تعلیم لاکھوں طالبات کا مستقبل تاریک ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔آخر متعلقہ محکمہ ان کالجز پر کب توجہ سے گا؟ان کالجز کی ایس این ای اب بھی نہیں ہوگی تو کب ہوگی؟رضاکارانہ اساتذہ کب تک خدمات دے سکتی ہیں ۔آخر انہوں نے بھی گھر کا چولہا جلانا ہے ان کی بھی ضرورریات ہیں۔شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ ثاقب نثار نے پر زور اپیل کی ہے کہ از خود نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (پنجاب) کو احکامات صادر فرمائیں کہ وہ فوری طور پر اس کالج کیS.N.Eمنظور کرتے ہوئے ٹیچنگ ونان ٹیچنگ سٹاف کی تقرری عمل میں لائیں تاکہ طالبات کا تعلیمی نقصان نہ ہو اور کالج کے دیگر امور بھی باآسانی چلائے جا سکیں۔