جاوید چودھری کے جھنگ پر لکھے گئے کالم کا جواب(وقار نامہ) محمد عمر وقار اعوان

0
435

جاوید چودھری کے جھنگ پر لکھے گئے کالم کا جواب
وقار نامہ

محمد عمر وقار اعوان

*جاوید چودھری کے جھنگ پر لکھے گٸے کالم کا جواب*

14دسمبر 2018ء بروز جمعہ جاوید چودھری کے کالم “ول فیر جھنگ توں کوئی نہ آسی “کا مطالعہ کیا اس کالم کے اندر اس نے جھنگ والوں کو “جانگلی ” کہہ کر مخاطب کیا ہے اس کی تشریح کرنا بہت ضروری ہے تاکہ جاوید چودھری صاحب کی اگر کوٸی غلط فہمی ہے جھنگ کے بارے تو وہ دور ہو جاٸے۔
فخر جھنگ ، تحریر کنندہ تاریخ پاکستان، گولڈ میڈلسٹ شوکت حیات کپلانہ اپنی کتاب تحریک پاکستان اور ضلع جھنگ میں لکھتے ہیں
“جھنگ کے لفظی معنی جنگل ہیں ـ اسے ساندل بار بھی کہتے ہیں ـ پنجاب میں یہ بہت قدیمی علاقہ ہے ـ اس کا وسیع و عریض رقبہ جنڈیالہ شیر خان شیخوپورہ میں وارث شاہ کے مدفن تک پھیلا ہوا تھا ـ اس میں اکثر خانہ بدوش لوگ اپنے مویشی ہانک کر بارش یا سیلاب کے چھپڑوں کے گرد آبادیاں بنا لیتے ـ فیصل آباد کا کثیر رقبہ اس علاقہ میں شامل تھا ـ یہ کھرل اور سیال اقوام کے قبضہ میں رہا ـ چونکہ زمانہ قدیم میں جھنگ کا رقبہ ایک وسیع جنگل تھا ، پنجاب کے شمال مشرقی علاقہ جات کے لوگ از راہ حقارت جھنگ کے لوگوں کو “جانگلی “کہتے ہیں” ـ
اسی بات کو لیکر شاید جاوید چوہدری نے جھنگ کی تضحیک کی اور اپنے کالم کا عنوان جھنگ کے ایک باسی کے لطیفے پر رکھا۔ شاید یہ لطیفہ جھنگ کے رہنے والے بندے کا تھا یا نہیں مگر اس طرح کسی کی تضحیک کرنا اور پھر اسے نیشنل نیوز پیپر میں ہتک آمیز الفاظ کی جگہ پر استعمال کرنا کسی بھی قیمت پر قبول نہیں۔
شاید جاوید چوہدری صاحب یہ بھول گٸے ہیں کہ جس خطہ نور و رنگ کے بارے وہ ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں اس خطہ جھنگ نے نا صرف پاکستان بلکہ برصغیر میں اپنا ایک نام بناٸے رکھا ہے۔ جھنگ دھرتی نے علم و ادب کی دنیا میں نایاب ہیرے پیدا کیے ہیں جہنوں نے جھنگ دھرتی کا نام پوری دنیا میں روشن کیا ہے ـ اگر یہ جانگلی ہوتے تو علم و ادب سے بہت دور ہوتے ـ اس دھرتی کے اہل علم کا ذکر تفصیل سے کروں تو مکمل کتاب وجود میں آ سکتی ہے ـ لمبی تحریر کو قاری نظر انداز کر دیتاہے اس لیے چند لوگوں کا ذکر کرتا ہوں جہنوں نے جھنگ کا نام پوری دنیا میں روشن کیاـ اس دھرتی نے سلطان الفقر حضرت سلطان باہو ؒ جیسے کامل ولی پیدا کیے ہیں جن کے کلام کی گونج پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ جنہوں نے اس دھرتی کو دوام دیا۔ اس دھرتی نے اردو نظم کے معتبر شاعر مجید امجد جیسے ہیرے کو جنم دیاـ تحریک منہاج القرآن و پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری جیسے مہان سکالر بھی اسی خطہ میں پیدا ہوٸے ہیں۔ جنہوں نے ہزاروں کتب تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ کٸی موضوعات پر پوری دنیا میں مفصل لیکچر بھی دیٸے ہیں۔ قرآن کا انساٸیکلوپیڈیا تحریر کرنا علامہ طاہر القادری صاحب کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ ساٸنس کے میدان میں بھی جھنگ کسی سے کم نہیں۔ جھنگ دھرتی نے ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر ہر گوبندخورانہ جیسے سائنسدان پیدا کیے جہنوں نے پوری دنیا میں جھنگ کا نام روشن کیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں نوبل انعام دیا گیا۔ اس سر زمین نے علم و ادب سے محبت کرنے والے سینکڑوں ادیب پیدا کیے ہیں۔ پنجابی ادب میں ایک بہت لمبی لاٸن ہے ان شعرا ٕ کرام کی جنہوں نے نا صرف پنجابی ادب کو زندہ کیٸے رکھا بلکہ جھنگ کی ثقافت کو بھی روشناس کروایا۔ عاقب ستیانوی، شاہ محمد دانش، مہر ریاض سیال، الطاف بھروانہ اور ان جیسے اور بہت سے نام۔ موسیقی کی دنیا میں بھی جھنگ کسی سے کم نہیں رہا۔ لوک فنکار طالب حسین درد ہوں یا منصور ملنگی انہوں نے بھی اپنے کام کے اعتبار سے جھنگ کا لوہا منوایا ہے۔ اردو زبان میں عباس تابش، نعت گو شاعر ریاض مجید، ڈاکٹر محسن مگھیانہ اور فرحت عباس شاہ جیسے علم دوست انسان موجود ہیں جنکی شاعری کی وجہ سے اہلیان جھنگ ایک جدا مقام رکھتے ہیں۔ معروف صحافی و کالم نگار نذیر ناجی کا تعلق بھی جھنگ سے ہے جنکی نصف زندگی پاکستان اور دنیا کے حالات پر ایک گہری نظر رکھے ہوٸے ہے۔ اگر اس دھرتی کے لوگ “جانگلی “ہوتے تو جھنگ سے علم و ادب کے فیض کھبی جاری نہ ہوتے ـ اس تحریر کےتوسط سے میں جاوید چودھری صاحب سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا آپ اپنے شہر کے بارے میں بتا سکتے ہیں کہ آپ کے شہر سے کتنے لوگوں نے پاکستان کا نام روشن کیا؟ اگر ہیں بھی تو چند ایک۔ مگر جھنگ ضلع ایک منفرد تاریخ رکھتا ہے۔ اگر ہم سچے پاکستانی ہیں تو پاکستان کے تمام شہر ہمارے اپنے ہیں اور ہمیں ایک جیسے پیارے ہیں۔ لہذا آپ سے گزارش ہے کہ لطیفے اپنے کالموں میں شامل کریں ضرور مگر یوں کسی قوم یا علاقے کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے۔ شکریہ