بدلتا معاشرہ ۔ خوبصورت تحریر عمرفاروق میو

0
129

ہیں وہ قومیں نہیں بدلا کرتی جو خود اپنی حالت پر رحم نہ کرے اور اتفاق کی بات ہے کچھ لوگوں سے سننے کو ملا کہ ہم بلکل نہیں بدلے ارے کون کہتا ہے ہم نے خود کو نہیں بدلا یہ بدلاو ہی تو ہے جہاں جس عمر میں بچے شادی جیسے لفظ سے انجان ہوا کرتے تھے آج کے دور میں وہ بچے پیار محبت کے چکروں میں پڑے نظر آتے ہیں تاریخ اٹھا لیں۔۔

اسلام اباد کا رہائشی سولہ سالہ بچہ اسامہ جس نے ٹیچر سے محبت کا اظہار کیا اور نہ سن کر خودسوزی کر لی۔ میڈیا نے کچھ دن خبر چلائی، ریٹنگ کے مارے ایک دو شو ہوئے اور یہ بات بھی پھر قصہ طرینہ بن گئی۔ کسی نے سوچا کون تھا اس سولہ سالہ بچے کی موت کا ذمہ دار ؟ بہت سے لوگوں کا کہنا ہوگا اسامہ خود ہی اپنی موت کا ذمہ دار ہے۔ آجکل جب بچوں کے ہاتھ میں قلم کی جگہ موبائل اور بیگ میں کتابوں کی جگہ لیپ ٹاپ ہوگا تو ہونگے ایسے واقعات، جس عمر میں مائیں بچوں کو باہر کھلنے بھیجتی تھی آج کے دور میں پاس بٹھا کہ ساس بہو اور عجیب و غریب سے ڈرامے دیکھیں گی تو ہونگے ایسے واقعات اور اسکی ذمہ دار مائیں بھی نہیں پیمرا ہے جو ان (عجیب و غریب) ڈراموں کی روک تھام کرنے کی بجائے وارنگ دے دیتا ہے یا پھر پیسے لے کر چپ کر جاتا ہے کیونکر نہ ہو ایسا ؟ جب ایک ادارے کی سربراہی کی جاب کا کرائٹیریا ہی (بی۔اے) کی ڈگری ہولڈر ہے پھر بھی اسکی سربراہی ایک سفارشی ابصار عالم (ایف۔اے) پاس کو دے دی جائے تو پھر کیا امید لگانا، کس کو کوسنا۔۔ کہا جاتا ہے اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کے معاشرے میں بے حیائی عام کر دو۔ یہی تو ہوا ہے ہمارے ساتھ اور یہ آج کی بات نہیں بڑی سوچی سمجھی سازش کے تحت ویسٹ نے کروایا یہ سب کچھ، کیا کس نے ؟ اگر آپ کو نہیں پتہ، بھولے ہیں۔۔ تو بتاتا چلوں کہ کیا بین الاقوامی فنڈد آرگنائزیشنز نے اور ہمارے حکمران سوائے اسکی روک تھام کے، وہ لوٹ مار میں مصروف تھے اور ابھی تک جیبیں بھرنے میں لگے ہیں۔