معروف گلوکار منصورعلی ملنگی تحریر محمد عمرفاروق نیوز ایڈیٹر سلطان نیوز

0
216

 ’ ایک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے ‘‘سرائیکی زبان کے معروف گلوکار منصور ملنگی کی چوتھی برسی کے موقع خصوصی تحریر

تحریر محمد عمرفاروق نیوز ایڈیٹر سلطان نیوز

 معروف گلوکار منصور ملنگی کی چوتھی برسی10 دسمبر کو منائی جائے گی۔ منصور ملنگی یکم جنوری1947 ء کوضلع جھنگ کے علاقہ گڑھ مہاراجہ میں پیدا ہوئے۔

ان کے والد پٹھان علی سارنگی نواز تھے۔ اسی لیے گلوکاری کا شوق منصور ملنگی کو وراثت میں ہی ملا۔ انھوں نے نوعمری سے ہی گلوکاری کا آغاز کر دیا تھا۔ ان کا پہلا گانا 1965ء کو ریڈیو پاکستان پر نشرہوا س وقت ان کی عمر 18برس تھی لیکن منصور ملنگی کو پہلی مرتبہ شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب انھوں نے1975ء میں سرائیکی زبان کا مشہور گانا ’’ اک پُھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے ‘‘ گایا۔
منصور ملنگی میں یہ خوبی تھی کہ وہ اپنے گانوں کی شاعری بھی خود کرتے تھے اور ان کی دھنیں بھی ترتیب دیتے تھے۔ انھوں نے اپنے فنی سفر کے دوران صوفیاء کا کلام گا کر بھی بے پناہ شہرت حاصل کی۔منصور علی ملنگی کا 21 جنوری 1982 کو ایکسیڈنت ہوا اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گی پھر انھوں نے گانا گایا ـ ” سرجن پسہیا دس ملنگی چوٹ کیتوں ھے آئی ” یہ پروگرام بہت مشہور ھوا اور ان کا نام پوری دنیا میں مشہور ہو گیاـ ان کی اصل پہچان ان کا پنجابی گانا  “ہک پھل موتے دا مار کے جگا”  بنا اس گانے کی وجہ سے وہ بہت مشہور ھو گے ـ منصور علی ملنگی نے 1974 ء میں ملکہ ترنم نور جہان سے لاھور  میں  ملاقات کی ـ 1990 میں برطانیہ گۓ ، 1992 میں امر یکہ ، 1993ء میں جاپان ، 1997ء میں ناروے کا سفر کیا ـ انہوں نے 1986ء میں سفر حج کیا ان کے اب تک 150 سے ذاہد آڈیو ویڈ یو کیسٹ مارکیت میں آ چکے ہیں ـ منصور علی ملنگی کا بیٹا شاہد منصور ملنگی ملنگی بھی اچھا گاتا ہے اور اس کے گانے انٹر نیٹ پر بھی موجود ہیں باقی بیٹوں ان کے نام درج ذیل ہیں ـ مختار ملنگی، شعیب منصور ، وقار منصور ، عرفان منصور ، عمران منصور، محمد علی، فہد علی، اور فرخ منصور  گڑھ موڑ کے رہاشی پولیس آفیسر محمد نصیر احمد میو نےراقم سے گفتگو کرتے ہوۓ بتایا ” منصور علی ملنگی  بہت اچھا لوک فنکار تھا اور ھم اس سے اکثر رات کو گانے سنتے تھے اور یہ شاعری بھی خود کرتے تھے بہت سادہ انسان تھے اور سادگی پسند کرتے تھےـ منصور علی ملنگی نے 10 دسمبر 2014 بروز بدھ کو وفات پا ئی ـ ان   کی قبر گڑ ھ موڑ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر لیہ روڈ پرقبرستان جکھڑ فقیر پر واقع ہے  ـ  میں تمام پرھنے والوں سے اپیل کرتا ہوں ان کے ایصال ثواب کے لیے ایک بار سورت فاتحہ اور تین بار سورت اخلاص پڑھ لیں ـ شکریہ