منصور علی ملنگی …ایک بے مثال لوک گلوکار ۔اُنہوں نے اچانک زمین اُوڑھ لی، مگر اُن کے گائے گیت انسانی جذبات کا اظہار کرتے رہیں گے ***** منصورعلی ملنگی کی اچانک موت نے اُن سے محبت کرنے والوں کو اُداس کردیا ۔منصور علی ملنگی سے لوگ محبت کیوں کرتے تھے چوتھی برسی کے موقع پر فرزند منصور علی ملنگی شاہد منصور ملنگی کے قلم سے تحریر سلطان نیوز پر

0
409

منصور علی ملنگی …ایک بے مثال لوک گلوکار

تحریر احمد اعجاز

انتخاب ۔۔
شاہد منصور ملنگی فرزند منصور علی ملنگی
گڑھ مہاراجہ جھنگ
اُنہوں نے اچانک زمین اُوڑھ لی، مگر اُن کے گائے گیت انسانی جذبات کا اظہار کرتے رہیں گے ***** منصورعلی ملنگی کی اچانک موت نے اُن سے محبت کرنے والوں کو اُداس کردیا ۔منصور علی ملنگی سے لوگ محبت کیوں کرتے تھے

تحریر احمد اعجاز

انتخاب ۔۔
شاہد منصور ملنگی فرزند منصور علی ملنگی
گڑھ مہاراجہ جھنگ
اُنہوں نے اچانک زمین اُوڑھ لی، مگر اُن کے گائے گیت انسانی جذبات کا اظہار کرتے رہیں گے ***** منصورعلی ملنگی کی اچانک موت نے اُن سے محبت کرنے والوں کو اُداس کردیا ۔منصور علی ملنگی سے لوگ محبت کیوں کرتے تھے؟اس لیے کہ وہ لوگوں کے لطیف جذبات و احساسات کے بہترین ترجمان تھے۔منصور علی ملنگی چونکہ عوامی گلوکار تھے ،یوں اُن کا براہِ راست تعلق عوام کے ساتھ تھا۔اُس عوام کے ساتھ تعلق جولطیف جذبات و احساسات کا اظہار کرنا ہی نہیں جانتی تھی۔شاعری اور موسیقی کا بنیادی مقصد ہی لطیف جذبات و احساسات کااظہار ٹھہرتا ہے ۔ پاکستانی معاشرہ ثقافتی گھٹن کا شکار رہا ہے ۔گھٹن زدہ ماحول میں جہاںآزادی سے سانس لینا ہی مشکل اَمر ہووہاں اپنی آواز کے جادو سے ماحول میںایک توازن کی کیفیت پیدا کرنا یقینا بڑا کام ہے۔مگر واضح رہے کہ منصور علی ملنگی کے سامنے ایسا کوئی ایجنڈہ نہیںتھا کہ اُنہوں نے ثقافتی گھٹن زدہ معاشرے میں اپنی گائیکی سے انقلاب بر پا کرنا ہے۔وہ تو بس ایک مکمل فنکار تھے اورموسیقی اُن کے اندر رچی بسی تھی ،قدرت نے اُنہیں ایک ایسی آواز دی تھی جو بہت میٹھی اورسریلی تھی ،اُن کی آواز میں جہاں مٹھاس تھی وہاںاُداسی بھی تھی،یہ اُن کا قدرتی انداز تھا ،جب کسی محفل میں گیت چھیڑتے تو لوگ جھوم اُٹھتے،وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہیں عوام کی ایک بڑی تعداد نے اپنا ترجمان سمجھا۔ ملکی تاریخ میں ستر کی دہائی کے چند ایک برس عوام کے اندر نئے جوش اور ولولے کا باعث بنے تھے۔یہ وہ لمحے تھے جب سیاسی عمل کا آغاز ہوا تھا۔سیاسی کلچر کے سائے میں عوام کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اظہار میںآزاد ہے ،اگرچہ یہ پوری حقیقت نہیں ،تاہم عوام کو اپنی آزادی کااحساس ضرور رہتا ہے ۔اَسی کی دہائی قومی تاریخ میں سیاسی و سماجی گھٹن میںاضافے کا باعث بنی۔بعدازاں نوے کی دہائی میں سیاسی عمل کا آغاز تو ایک بار پھر سے ہوچکاتھا مگرحکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں جس سے سیاسی کلچر پروان نہ چڑھ سکا۔نتیجہ یہ نکلا کہ سماج پسماندہ ہی رہا۔آزادی ٔ اظہار پر جبر کی فضا چھائی رہی۔اُس ثقافتی گھٹن زدہ فضا میںجب منصور ملنگی کی مترنم آواز گونجتی تھی تو لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن جاتی تھی ۔پنجاب اور بالخصوص جنوبی پنجاب کے دیہاتوں میں منصور علی ملنگی کے گیتوں نے ایک سماںباندھے رکھا۔شادی بیاہ کی تقریبات ہوںیامیلے ٹھیلے کے تہوار منصورعلی ملنگی اپنی آواز کاجادو جگاتے ہوئے پائے جاتے تھے۔ منصور علی ملنگی کی جب پُرسوز آواز میں لوگ یہ گیت’’کہیڑی غلطی ہوئی اے ظالم کیوںدور ڈیرے لائے نی بوہے غیر دے وسائے نی‘‘ سنتے تو اُنہیں اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کابہترین وسیلہ میسر آجاتا ۔محبوب سے اُس کے رویے کا شکوہ اور بے نیازی کا اظہار ملنگی کے عوامی گیت ہی ٹھہرتے۔ منصور ملنگی کی جب دُکھی آواز اُبھرتی اور وہ گویا ہوتے ’’ہویا زخمی زخمی سینہ میرا ڈُب گیا سفینہ۔۔۔کر سٹیا ای اوکھا جینا ، انج روگ دل نوں لائے نی‘‘تو سننے والے تخیل ہی تخیل میں خود کو اپنے محبوب کے رُوبرو متصور کرتے۔جب ملنگی کا گیت ختم ہوتا تو سننے والے بھی حقیقت کی دُنیا میں لوٹ آتے اور ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے زندگی کے جھمیلوں میں پڑ جاتے۔ سلطان راہی ،عطا ء اللہ عیسیٰ خیلوی اور منصور ملنگی نے ایک بڑے طبقے کے جذبات کی نمائندگی کی۔ سلطان راہی کی فلموں نے اپنے دَور میںتہلکہ مچائے رکھا ۔کچھ سماجی دانشوروں کا خیال ہے کہ سلطان راہی نے گنڈاسے کے ذریعے مار دھاڑ کے کلچر کو فروغ دیا۔ یہ ایک رائے تو ہے پوری حقیقت نہیں ۔ سلطان راہی نے اپنے فلموں میں اداکاری کے ذریعے وہی کام (کچھ فرق کے ساتھ) کیا جو منصور علی ملنگی اور عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور دیگر نے اپنے گیتوں کے ذریعے کیا۔ سلطان راہی نے اپنی تقریباً ہرفلم میں ظالم جاگیردار کو للکارا،جیسے ہی وہ گھوڑے پر بیٹھ کر ماں کی آواز پر ظالم کے مقابل آتے سینما میں بیٹھے لوگ کھڑے ہوکر تالیاںپیٹنے اور سیٹیاں بجانا شروع ہو جاتے۔آخر لوگ ایسا کیوںکرتے تھے؟دَرحقیقت عام لوگ جو وڈیرے ،چوہدری اور گلی محلے کے کسی بدمعاش اور بڑے زمیندار کے ظلم کے سامنے لب کشائی نہیں کرسکتے تھے وہ سینما کی فضا میںخود کو’’ سلطان راہی ‘‘ تصور کرتے اوراپنے غصیلے جذبات کا انخلا ء کرتے۔تاہم منصور علی ملنگی ہوں یا عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی یا دیگر لوک گلوکار اُن کا اپنا اپنا کنٹر ی بیوشن ہے ۔ منصور علی ملنگی نے جس قدر گیت گائے اُن میں عوامیت تھی،کیونکہ اُ ن کے سارے گیت عوام کے لیے تھے،وہ صحیح معنوں میں لوک فنکار تھے۔اُن کے بعض گائے ہوئے گیت اپنے اندر پوری پوری داستان کے حامل تھے۔یہی تو لوک گیتوں کی خصوصیت بھی ہے کہ وہ اپنے اندر ایک داستانی مزاج کے حامل بھی ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر ’’بلوچا ظالما، جادو کیتوئی اوئے۔۔۔سیّاں وچ کھیڈدی قابو کیتوئی اوئے۔۔۔بلوچا ظالما! نہ دور جاویں اوئے۔۔۔خدا دے واسطے لگیاں نبھاویں اوئے ‘‘اس گیت میںجس قدر گدازیت ہے وہ تو اپنی مثال آپ ہے ،اس کے ساتھ ساتھ محبوب سے محبت کا انتہائی منفرد انداز ہے ،جس میںالتجا ہے اور ہجر کے صدمے کی عجیب کیفیت کا اظہار ہے۔’’بلوچا ظالما! راوی پئی وہندی اوئے۔۔۔جدائی تیری ایہہ جندڑی پل نہ سہندی اوئے ‘‘اس پورے گیت میںجہاںعجیب طرح کی گدازیت ہے وہاںایک داستان کابیان بھی ہے جو محبت کی ایک ایسی داستان ہے جسے زوال نہیں ۔ایسے لازوال گیت منصور علی ملنگی نے ہی گائے ہیں ۔اُن کے ایک اورگیت کاتذکرہ یہاںضروری ہے جسے وہ لوگ بالخصوص سنتے اور گنگناتے تھے جن کے پیارے غریب الوطن ہوتے اور وہ اُن کی یادوں میں آنسو بھی بہاتے اور اُنہیںملنگی کی آواز میں پیغام بھی بھیجتے۔’’کڈن ولسو سوہنڑا سانولا ،اے وطن ساڈے غریباں دے‘‘اس گیت میں بہت زیادہ اُداسی اور تنہائی کا اظہار ہے۔یہی منصور ملنگی کے گیتوںکی خصوصیت ہے۔اُنہوں نے جو دیگر گیت گائے وہ چند ایک یہ ہیں :اک پھُل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے۔۔۔ چھبہ چوڑیاں دا سر تے میں چایا۔۔۔ کالا تل ماہی دے گورے مکھ تے سجدا اے۔۔۔ اساں بے قدراں نال لائیاںاکھیاں۔۔۔وغیرہ۔ منصور علی ملنگی جیسے عوامی گلوگار ایک پوری روایت کے حامل ہوتے ہیں۔اُن کے گیت سماج اور تاریخ کا اظہاریہ ہوتے ہیں ،وہ اپنے علاقے اپنی دھرتی کی عکاسی لطیف پیرائے میںکرتے ہیں۔وہ اپنی موسیقی سے صلح کل کا پیغام ہر خاص و عام کو دیتے ہیں۔ایسے فنکار کسی بھی دھرتی کے صحیح نمائندے ہوتے ہیں ۔منصور علی ملنگی نے زمین اُوڑھ لی ہے مگر اُن کی آواز لازوال گیتوں کی صورت لوگوں کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتےرہے

تحریر۔ ۔۔۔۔ احمد اعجاز