تریموں ہیڈ جھنگ پر عوام کے مسائل (بے لوث) تجزیہ نگارامجد علی خان ڈھول احمد پور سیال

0
9

تریموں ہیڈ جھنگ پر عوام کے مسائل
(بے لوث)
امجد علی خان ڈھول تجزیہ نگار احمد پور سیال

کام تیزی آئے یا نہ آئے یہ انتظامی معاملہ ہے اس سے پبلک کو کیا سروکار لیکن بسیں چلنے میں تو بے کار (car less) مسافروں کو سہولت فراہم ہونی چاہیے اور مرمت سے پہلے بھی اور مرمت کے بعد بھی یہی پل زیر استعمال آنی ہے جو کہ موجود ہے اور ہر قسم کی نقل و حمل کیلیے فٹ بھی اور فٹ رہیگی بعد از مرمت بھی ۔ صرف ایک نیا ایکسٹینڈڈ پورشن لمبائی کے رخ میں بننا ہے جس پر اب دوران مرمت بھی کسی قسم کا خلل نہیں نہ ہی آئیندہ دوران مرمت پڑنا ہے کیونکہ ٹریفک کام والے حصے سے دور گزر رہی ہے اور پھر بھی دور ہی گزرے گی ۔ مگر حیرت ہے کہ بسیں نجانے کیونکر بند کی ہوئی ہیں ۔

پل نئی بھی کیوں نہ بنتی بسوں کی بندش کا تب بھی کوئی جواز نہیں تھا مگر اب تو سرے سے ہی کوئی جواز نہیں ۔

صحافت سے وابستہ دوست احباب اسی نقطے کو سمجھیں اور ارباب اختیار تک عوام کا درد پہنچائیں اور پوچھیں کہ آخر بسیں کیونکر بند ہیں ؟

پھر رات کے پہر میں جب سرے سے کوئی کام نہیں ہوتا لانگ روٹس کی بسیں بند ہیں اور مسافر دھکے کھا رہے ہیں ۔

یاد رکھیں پل آرام سے ہی اپنے مقررہ وقت پر بنے گی لیکن جب تک پل بن کر مکمل نہیں ہوتی تب تک بسوں کی بندش کیا جاری رہے گی؟ تھل کے وسیع خطے کی عوام جو پہلے ہی رل رہی ہے رلتی رہیگی ؟

اندازہ تو کریں کہ طلباء کیا کرتے ہونگے یا ہمارے دکھی بہن بھائی جن کے پاس کاریں نہیں اور موٹرسائیکلوں پر لاہور فیصل آباد تو جایا نہیں جاتا ۔ کیا ہوتا ہو گا ؟

پل مکمل ہونے تک عوام یونہی سالہا سال تک کیا دھکے کھاتی رہے ؟ ؟ ؟ ؟

آپ تاریخ اٹھائیں اور مطالعہ کریں کہ کہیں ایسی مثال ہو کہ آمدورفت کا بڑا زریعہ یعنی بسیں ملک میں کہیں بھی بند ہوئی ہوں ؟؟؟؟؟؟

راوی پر پل بنی لاہور سے ملک کے کونے کونے کی بسیں چلتی رہیں ۔ سرگودھا ۔خوشاب کے درمیان میں دریاۓ جہلم پر پل بنی کوئی بس بند نہیں ہوئی ۔ جھنگ کے قریب کی مثال دوں دریاۓ چناب پر چنڈ کے مقام پر پل بنی بسیں نہیں رکیں ۔ تو کیا وجہ ہے کہ جھنگ میں تھل کیلیے کوئی دوسرا قانون ہے ؟؟؟؟؟

کیا جھنگ کے لوگ بیمار نہیں ہوتے ۔ بچے تعلیم کیلیے کہیں نہیں جاتے ؟ ملازمت مزدوری پیشہ لوگ ڈبل ٹرپل کراۓ بھی بھر رہے ہیں اور ساری ساری رات رل بھی رہے ہیں۔

کتنا افسوسناک اور شرم کا مقام ہے کہ کسی کو کوئی احساس تک نہیں ۔ جو ویگنیں دن کے اجالے میں چل رہی ہیں کیا رات کو بھی میسر ہوتی ہیں ؟؟؟؟؟؟ ویگنیں تو ویگنیں رات کو تو چاند گاڑی تک بھی دستیاب نہیں ہوتی۔

شائد آپ کو اتفاق نہ ہوا ہو مگر میں یہ منظر روزانہ نہیں تو ویک اینڈ پر ضرور دیکھتا ہوں اور کتنے ہیں جن کے پاس کاریں ہیں ؟ اعداد شمار ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں

سر جی !

یہ معاملہ بہت ہی تکلیف دہ ہے ۔ تھل سے طلباء کی کثیر تعداد فیصل آباد ، لاہور کالجز یونیورسٹیوں میں پڑھتی ہے اور مریض جھنگ تک بھی آتے جاتے ہیں یقینناً آپ نے کئ بار دیکھے ہونگے وہ ان کھچا کھچ سوایوں سے ٹھونسی ہوئی ویگنوں میں کیسے جھنگ تک پہنچتے ہونگے ؟

خدارا پل کے بننے کے انتظار میں نہ بیٹھیں مطالبہ کریں:

یا تو حسب روٹین بسیں بحال کی جائیں یا پھر منی بس سروس چلائی جاۓ کیونکہ ویگنیں بسوں کا لوڈ قطعاً نہیں اٹھا سکتیں اور رات کو خصوصاً جب کوئی مرمتی کام نہیں ہوتا تو بسیں چلنی چاہیں یا پھر منی بسیں مقررہ اوقات میں ہر روٹ پر دستیاب ہوں ۔ اور ہر سٹاپ کا اپنا اپنا مقر کردہ کرایہ ہونا چاہیے نہ کہ لوٹ مار جو کہ برپا ہے ۔

اگر یہ مینجمنٹ ممکن نہیں تو جھنگ کی مینجمنٹ اتھارٹی معزرت کیساتھ تھل کی عوام سے ظلم کر رہی ہے جس کا کوئی نوٹس لے نہ لے مگر صحافت کو اسکا کڑا نوٹس لینا چاہیے ۔