وزیراعظم عمران خان سے فیس بک کے نائب صدرپبلک پالیسی مسٹرسمن ملنر سے اہم ملاقات، ملاقات کی مکمل تفصیلات جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں

0
49

وزیراعظم عمران خان سے فیس بک سنگاپورکے نائب صدرپبلک پالیسی مسٹرسمن ملنرنے ملاقات کی۔ جس میں تجارتی اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کیلئے فیس بک سے تعاون بڑھانے پرتبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فیس بک پرنفرت انگیزمواد اورجھوٹی خبروں کوروکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے آج اسلام آباد میں فیس بک سنگاپورکے نائب صدرپبلک پالیسی مسٹرسمن ملنرنے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کیلئے فیس بک سے تعاون کے فروغ پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری اورافتخاردرانی بھی شریک تھے۔ اس موقع پرفیس بک پبلک پالیسی کی نائب صدرمسٹرسمن ملنرنے اپنی کمپنی کے اقدامات سے متعلق وزیراعظم کوآگاہ کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے سماجی روابطوں کوبڑھانے پر فیس بک انتظامیہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فیس بک کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ عوام میں آگاہی اورشعورپھیلانے میں فیس بک کا بڑا کردارہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں نفرت اور تشدد پھیلانے والے مواد کی روک تھام کیلئے مشترکہ خیالات رکھتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ فیس بک پرنفرت انگیزمواد اورجھوٹی خبروں کوروکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ مزید برآں وزیراعظم عمران خان سے سیلولر کمپنی ٹیلی نار گروپ کے صدر نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ٹیلی نار گروپ کے صدر نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تجربے کو تسلی بخش قراردیتے ہوئے ٹیلی کام کے شعبے میں مکمل تعاون فراہم کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
ملاقات میں گروپ صدر نے وزیر خزانہ سے ہونی والی ملاقات اور140 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری سے متعلق بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی کام کے شعبے میں ٹیلی نارگروپ کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان عملی بنیادوں پرمعیشت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ حکومت ترقیاتی ایجنڈے میں ٹیلی نارگروپ کی شرکت کوسراہتی ہے۔ حکومت سرمایہ کاری میں شفافیت لانا چاہتی ہے اورسرمایہ کاروں کو مکمل سہولیات فراہم کریگی۔ حکومتی تعاون سے سرمایہ کار وسائل کو برؤے کار لاکرملکی معیشت کو مضبوط بناسکتے ہیں۔اس سے قبل صدرٹیلی نارگروپ کا ملاقات کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان میں 3.5 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی اورسرمایہ کاری سے 5 ہزار لوگوں کو روزگار ملا۔