تھانہ احمد پور سیال کے مسائل تحریر: سیف اللہ صدیقی مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کریں

0
55

تھانہ احمد پور سیال کے مسائل
تحریر: سیف اللہ صدیقی
تھانہ گڑھ مہاراجہ کی چوکی کے طور پر کام کرنے والی عمارت کو بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے پیش نظر1987ء میں اپ گریڈ کیا گیا اور یوں پولیس چوکی احمد پور سیال کو تھانہ کا درجہ مل گیا۔احمد پور سیال کو تھانے کا درجہ ملے ہوئے عرصہ دراز گزر چکا ہے لیکن یہ اب بھی اسی چوکی والی تنگ عمارت میں کام کر رہا ہے۔چوکی کے بعد تھانے کا درجہ ملنے کے بعد بھی اس کی عمارت چار دیواری سے محروم رہی ۔عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے قائم ادارے کے اہلکار خود عدم تحفظ کا شکار تھے کیونکہ چار دیواری کی عدم دستیابی نے ان کے لیے سیکیورٹی رسک پیدا کردیئے تھے۔وقت گزرتا گیا جب میاں عاطف عمران قریشی بطور ایس ایچ او اپنے فرائض انجام دے رہے تھے تو انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے تھانہ احمد پور سیال کی چار دیواری قائم کروائی جس سے کچھ حد تک تو اس عمارت کے اندر کام کرنے والوں کو تحفظ ملا لیکن یہ چار دیواری بھی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ تھانے کے احاطہ میں کیا ہورہا ہے ۔سڑک سے گزرنے والا باآسانی دیکھ سکتا ہے اور اس چار دیواری کو آسانی سے عبور بھی کیا جاسکتا ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس تھانے کی چاردیواری کو بلند کیا جائے اور اس پر خار دار تاریں لگائی جائیں ۔پہلے ایس ایچ او بھی ایک تنگ کمرے میں بیٹھ کر عوامی شکایت سنتا تھا لیکن عاطف عمران قریشی نے اپنے دور میں ایس ایچ او کے لیے بھی اٹیچ باتھ کے ہمراہ ایک کشادہ کمرہ تعمیر کروایا۔لیکن ایس ایچ او کے لیے ایک کمرے کے تعمیر سے اس تھانے کے مسائل حل نہیں ہوئے کیونکہ اس تھانے میں مزیدکشادہ کمروں کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چوکی کے دور والی حوالات کا کمرہ بھی انتہائی تنگ ہے ۔جب حوالاتیوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے تو یہ کمرہ ان کے لیے ناکافی ہوجاتا ہے ۔مجبوراً حوالاتیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح اس تنگ کمرے میں ٹھونسنا پڑتا ہے جس سے حوالات میں بند ملزموں کو عدالت کی طرف سے سزا ملنے سے پہلے ہی ’’سزا‘‘ بھگتنا پڑتی ہے۔بے گناہ حوالاتی کی تو مفت میں’’شامت‘‘ آجاتی ہے۔جب ملزمان کا رش ہوتا ہے تو بے گناہ حوالاتی تو’’خداخداکرکے‘‘ رات کاٹتا ہے۔اس تھانے میں مال خانے کے لیے بھی کھلا کمرہ میسر نہیں ہے۔تھانے میں ڈیوٹی دینے والے ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے لیے سرکاری طور پر رہائش گاہیں بھی نہیں بنائی گئیں یہی وجہ ہے کہ ایس ایچ او کو مجبوراً تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور سیال کے ملازمین کے لیے بنائے گئے کوارٹر میں رہائش اختیار کرنا پڑتی ہے ۔اسی طرح ڈی ایس پی کو بھی ہسپتال کے کسی ڈاکٹر کے لیے بنائی گئی کوٹھی میں بسیرا کرنا پڑتا ہے۔باقی پولیس اہلکار کرائے کے مکانوں میں گزارہ کرتے ہیں۔تھانہ احمد پور سیال کی پولیس کو گشت کے لیے سرکاری طور پر موٹر سائیکلیں بھی فراہم نہیں کی گئیں جو انتہائی ضروری ہیں۔اسی طرح تحصیل ہیڈ کوارٹر کا تھانہ ہونے کے ناطے یہاں دو پولیس وینز کا ہونا ضروری ہے۔جبکہ صرف ایک پولیس وین پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے۔تھانہ احمد پور سیال کی عمارت کے لیے فراہم کردہ رقبہ بہت کم ہے۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تھانہ احمد پور سیال کو شہر سے باہر کھلے مقام پر منتقل کرکے وہاں ایک قلعہ نما کشادہ عمارت قائم کی جائے جہاں عملہ کے حساب سے کمرے بھی بنائے جائیں اور گنجائش کے مطابق حوالات بنائی جائے اور ملازمین کے رہنے کے لیے سرکاری رہائش گاہوں کا بھی بندوبست کیا جائے۔ڈی ایس پی کے دفتر کی بات کی جائے تو وہ بھی سابقہ ریسٹ ہاؤس کی تنگ عمارت میں کام کر رہا ہے ۔ڈی ایس پی کا کمرہ اتنا تنگ ہے کہ شکایت کے ازالہ کے لیے آئے ہوئے سائلین کے بیٹھنے کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔کچھ سائلین کو تو کمرے کے باہر کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔ڈی ایس پی کے لیے بھی الگ دفتر اور رہائش گاہ کا قیام ضروری ہے