شیخ وقاص کی پٹیشن اور این اے ایک سو پندرہ کی ممکنہ صورتحال تجزیہ معروف صحافی وکالم نگار علی امجد چوہدری

0
348

شیخ وقاص کی پٹیشن اور این اے ایک سو پندرہ کی ممکنہ صورتحال

تجزیہ معروف صحافی وکالم نگار علی امجد چوہدری احمد پور سیال

این اے ایک سو پندرہ میں قانونی جنگ مبینہ طور پر ایک بار پھر شروع ہو چکی ہے اور مبینہ طور پر اس حوالے سے سماعت کی آئندہ تاریخ بارہ دسمبر مقرر کی گئی ہے شیخ وقاص اکرم کی طرف سے مبینہ طور پر رکن قومی اسمبلی غلام بی بی بھروانہ کے خلاف دائر کی گئی درخواست کے کیا نتائج ہونگے اور کون سے معرکے میں فاتح رہے گا یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا تاہم اس پٹیشن کا قدرے تاخیر سے دائر ہونا خاصا معنی خیز ہے انتخابات کے بعد سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم پراسرار طور پر خاموش دکھائی دے رہے تھے تاہم گزشتہ دنوں وہ نا صرف جھنگ کے صحافیوں کے ساتھ کھانے کی میز پر دکھائی دیئے بلکہ انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ان کی مبینہ پٹیشن بھی خبروں کی زینت بنی جس سے جھنگ کی سیاسی فضاء میں ایک بار پھر ہل چل پیدا کردی ہے سیاسی پنڈت اس مبینہ رٹ پٹیشن کو قدرے تاخیر سے دائر ہونے پر خاصی اہمیت دے رہے سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق شیخ وقاص اکرم کی پراسرار خاموشی دراصل حسب روایت طوفان کا پیش خیمہ تھی اور اب وہ طوفان دھیرے دھیرے سامنے أ رہا ہے مبصرین کے طابق اس مبینہ رٹ پٹیشن کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیخ وقاص اکرم ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور شیخ وقاص اکرم اس پراسرار خاموشی کے دوران اپنا پیر ورک مکمل کر چکے ہیں تاہم مبصرین کے مطابق وہ جنگ جو سابقہ این اے 89 سے شروع ہوئی تھی وہ کسی نا کسی شکل میں بھرپور طریقے سے جاری ہے اگر موجودہ گراؤنڈ سچویشن کے حوالے سے اسے دیکھا جائے تو یہ صورتحال ایک نیا رخ بھی لے سکتی ہے اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم موجودہ رکن قومی اسمبلی غلام بی بی بھروانہ کو نااہل کروانے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو اس کے بعد کی صورتحال سے فائدہ اٹھا سکیں گے ؟یہی وہ چیلنج ہے جو شیخ وقاص کو درپیش ہے شیخ وقاص اکرم حالیہ عام انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہے ان کے اور غلام بی بی بھروانہ کے درمیان تیس ہزار ووٹ کا فرق تھا کیا شیخ وقاص اکرم اس تیس ہزار ووٹ کے فرق کو ختم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں مگر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ پراسرار طور پر خاموش رہے تو اس تیس ہزار ووٹ کے فرق کو کیسے ختم پائے پھر رکن صوبائی اسمبلی مولانا معاویہ اعظم خاصے مستعد ہیں وہ جھنگ کی گلیوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے انتہائی فکرمند دکھائی دیتے ہیں اور نوجوانوں کی خاصی بڑی تعداد ان کے کیمپ کی طرف رجوع کرتی دکھائی دے رہی ہے اگر سابق وفاقی وزیر شیخ وقاص اکرم اور رکن قومی اسمبلی غلام بی بی بھروانہ کے درمیان یہ عدالتی جنگ شدت اختیار کر جاتی ہے تو پھر نوجوان مستعد ایم پی اے مولانا معاویہ اعظم کے کیمپ میں بھیڑ بڑھتی جائے گی تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ شیخ صاحب کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیئے ایک بار پھر بھرپور جدوجہد کرنی پڑے گی وگرنہ یہ گیم ان کے ہاتھ سے مسلسل نکلتی جا ئے گی ؛؛؛
تحریر معروف صحافی وکالم نگار علی امجد چوہدری احمد پور سیال
صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ