کچے مکان سے کچی قبر تک (حافظ خادم حسین ) تحریر حسیب خان گڑھ مہاراجہ

0
46

کچے مکان سے کچی قبر تک
(حافظ خادم حسین )
تحریر حسیب خان گڑھ مہاراجہ

کچے مکان سے زندگی کاسفر کرنے والا اج منوں مٹی کی چادر اوڑھ کر کچی قبر میں سوگیا

آج ہر دل بہت افسردہ ہے۔ہر با ادب آنکھ نم ہے۔وجہ کسی سیاسی شخصیت کی جداٸی نہیں۔وجہ کسی امیر کی موت نہیں۔ وجہ ہے ایک کچے مکان رہنے والا ایک غریب کی وفات ہے جو کہ حقیقتاً رٸیس گڑھ مہاراجہ تھا جسے سارا گڑھ مہاراجہ ہی نہیں بلکہ پوری تحصیل احمد پور سیال جانتی تھی۔جو صرف اہلسنت مسلک کے ہی استاد نہیں بلکہ شیعہ مسلک کے بچوں کے بھی استاد تھے۔جنہوں نے ساری زندگی قرآن مقدس کی خدمت میں گزارے۔جنہوں نے ساری عمر اسلام کے رستے پہ چلتے ہوۓ گزاری۔اور آج اس شہر کے سینکڑوں قاری حافظ ان کے شاگرد ہیں اور پورے ملک میں ان کے شاگرد قرآن کی تعلیم دیتے نظر آتے ہیں بلکے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں ۔ان ہی کی تربیت لیے ہوۓ آج سینکڑوں لوگ اچھی اچھی پوسٹس پہ بیٹھے ہیں۔

وہ کوٸی اور نہیں بلکہ میرے دینی استاد حافظ خادم حسین رحمتہ اللہ علیہ تھے۔جو آج ہم سے جدا ہوگٸے۔جن کیلٸے علما ٕ کرام کو روتے دیکھا ہے۔جن کے سینکڑوں شاگرد دور دراز سے برکت سمجھتے ہوۓ جنازہ میں شریک ہونے کیلٸے آۓ۔

میں نے بھی اپنی ابتداٸی دینی تعلیم استاد مرحوم سے حاصل کی۔اور میری امی جان(اللہ پاک عمر دراز فرماۓ)نے مجھے آج بتایا کہ تمہیں گٹھی بھی استاد خادم حسین نے دی تھی۔آنکھ نم ہو گٸی۔دل خون کے آنسو رویا۔میں نے الحمداللہ 3 دفعہ قرآن مقدس انہی کی تعلیم میں مکمل کیا۔مگر یہ عظیم شخصیت آج ہم میں نہیں رہے۔ہر بندے کی زبان سے ان کیلٸے تعریف سنی۔مجھے فخر ہے کہ میں اس عظیم شخصیت کا شاگرد ہوں۔

قبر بنانے والے نے کہا کہ میری زندگی میں آج تک اتنی آسانی سے قبر کسی کی نہیں بنی جتنی آج استاد خادم حسین مرحوم کی بنی۔اور کیوں نہ بنتی استاد محترم کے دل میں قرآم مقدس کی روشنی تھی۔اور سینکڑوں بچوں کو اس عظیم و مقدس تعلیم سے روشن کیا۔یقیناً یہی ان کا سب سے بڑا صدقہ جاریہ ہے۔اور یقیناً اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے گا۔ساری زندگی کچے مکان میں گذر دی آخر کار اج
کچے مکان سے زندگی کاسفر کرنے والا اج منوں مٹی کی چادر اوڑھ کر کچی قبر میں سوگیا
اللہ پاک ہمیں بھی ان کی زندگی پہ عمل کرنے کی توفیق دے۔اور ہمارا خاتمہ بھی ایمان پہ ہو۔آمین