غیرسرکاری تنظیم فافن نے جنرل الیکشن2018ء کوشفاف قرار دے دیا، فائنل رپورٹ جاری، مکمل تفصیلات جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں

0
31

غیرسرکاری تنظیم فافن نے جنرل الیکشن2018ء کوشفاف قرار دے دیا۔ فافن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ انتخابات میں کسی پولنگ اسٹیشن پر قبضہ نہیں ہوا، جبکہ 2013ء میں1.2 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کیا گیا، الیکشن2018ء میں38 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر بےضابطگیاں سامنے آئیں جبکہ2.5فیصد پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ پولنگ ایجنٹوں کو نہیں دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غیرسرکاری تنظیم فافن نے عام انتخابات2018ء اور عام انتخابات2013ء کے تقابلی جائزے پرمبنی فائنل رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں فافن نے الیکشن 2018 کو گزشتہ انتخابات سے شفاف قراردیا ہے۔ انتخابات کے دوران ملک بھرمیں کسی پولنگ اسٹیشن پر قبضہ نہیں ہوا۔ جبکہ انتخابات 2013ء میں1.2 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کیا گیا تھا۔
عام انتخابات 2018 میں38 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ 2.5فیصد پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ پولنگ ایجنٹوں کو نہیں دیا گیا۔ جبکہ 2013ء میں 7.5 فیصد پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ ایجنٹوں کو نہیں دیا گیا۔ عام انتخابات 2018ء میں تشدد کے واقعات میں کمی ہوئی۔ جس کے تحت صرف 1.1 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر تشدد کے واقعات ہوئے۔

پولنگ اسٹاف پر0.5 فیصد پولنگ اسٹیشنز پرغیر متعلقہ افراد نے دباؤ ڈالا۔ 0.5 پولنگ اسٹیشنز پر شناختی کارڈ کے بغیر ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔ جبکہ 2013ء میں شناختی کارڈ کے بغیر 2.7 فیصد پولنگ اسٹیشنز ووٹ ڈالنے کی اجازت تھی۔ 0.5 فیصد پولنگ اسٹیشنز کا اسٹاف ووٹرزپراپنی مرضی تھونپنے کا دباؤ ڈالتا رہا۔ عام انتخابات 2013ء میں پولنگ اسٹاف کے ووٹرزپردباؤ کی شرح 2 فیصد تھی۔
قومی اسمبلی کے 180 ایسے حلقے ہیں جن پر معولی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ 18.8 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر فارم 45 چسپاں نہیں کیے گئے۔ عام انتخابات 2018ء میں سب سے زیادہ 57 فیصد ووٹرز کی نمائندگی نہیں ہوسکی۔ 3 فیصد یعنی 16 لاکھ 93 ہزار ووٹ مسترد ہوئے۔ تمام پولنگ اسٹیشنز پرخواتین نے ووٹ ڈالے۔ قومی اسمبلی کے جن 53 حلقوں سے تحریک انصاف جیتی وہاں مستردووٹوں کی تعداد جیت کی لیڈ سے زیادہ تھی۔اسی طرح الیکشن 2018ء میں مسلم لیگ ن نے37 اور پیپلزپارٹی نے17حلقوں نے نشستیں جیتیں، یہاں پر بھی مسترد ووٹوں کی تعداد لیڈ سے زیادہ تھی۔