ادب کی دنیا ایک باب (صفدر سلیم سیال)تحریر امجد علی خان

0
215

ادب کی دنیا ایک باب
صفدر سلیم سیال
جھنگ کی زرخیز زمین نے ادبی دنیا میں بہت معروف شاعر،ادیب اور کالم نگار پیدا
کیےہیں اور انہیں کی ادبی و سماجی خدمات کی بدولت جھنگ کی سر زمین پاکستان میں پہچانی جاتی ہے
ان ادب کے شاہسواروں میں ایک مقبول نام “صفدر سلیم سیال” کا نام صف اوّل کی فہرست میں آتا ہے
آپکی زندگی کا دورانیہ 1936 سے 1918 تک محیط ہے۔اسی دوران مرحوم نے ادب اور سماج کی گرانقدر خدمات پیش کی ہیں
مرحوم بہت ساری کتابوں کے مصنف کے علاوہ انکے مقالات نامور یونیورسٹیوں میں پڑھاے جا رہے ہیں
معروف قانون دان صوفی ثناءاللہ رانجھا صاحب سے مجھے جھنگ میں ملاقات کا شرف 26ستمبر کو حاصل ہوا تو میں نے موصوف سے سوال کیا کہ آپکی شہرت و کامیابی کا راز کیا ہے?
تو صوفی صاحب نے بلا تامل جواب دیا کہ میں ایک کسان کا بیٹا ہوں اور میاں صفدر سلیم سیال کے سماجی و ادبی افکار و نظریات کا پیرو کار ہوں
موصوف کا مزید کہنا تھا کہ میری شہرت میں تقویت کا راز صفدر سلیم سیال کے سماجی و ادبی اصول ہیں
رایٹر ویلفیر کے ماہانہ اجلاس میں صفدر سلیم سیال کی صحتیابی کیلیے دعائیہ پروگرام کا اہتمام ہوا تو اجلاس کی صدارت فخر احمدپورسیال خان قاسم علی خان سیال صاحب کر رہے تھے تو میں نے خان صاحب سے پوچھا کہ صفدر سلیم سیال کی شخصیت کا تعارف کرائیں تو موصوف نے فرمایا کہ صفدر سلیم سیال صاحب کا غلامی ذہنیت کا خاتمہ اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف مرد آہن ہے

اسی نشست میں معروف نوجوان شاعر اسد رضا سحر نے فرمایا کہ صفدر سلیم سیال صاحب اپنی شاعری کے ذریعے معاشرتی مساوات کا انقلاب پیدا کیا ہے
مختصر یہ کہ صفدر سلیم سیال کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائگا۔مرحوم کی شخصیت کا احاطہ الفاظوں میں ممکن نہیں۔ادبی فنکار کبھی نہیں مرتا اسکا فن اسکو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے
رب العزت سے التجا ہے کہ مرحوم کے درجات بلند فرماے۔۔۔
تحریر امجد علی خان