حضرت شیخ بہائوالدین زکریا ملتانی انتخاب سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

0
30

حضرت شیخ بہائوالدین زکریا ملتانی انتخاب

انتخاب سید محسن رضا کاظمی الحمیدی

شیخ الاسلام حضرت شیخ بہائوالدین زکریا ملتانی الاسدی القریشی ایک بلند پایہ عالم و عارف تھے ۔آپ کے اجداد مکہ مکرمہ سے چلے اور خوارزم سے ہوتے ہوئے ہند پہنچے ۔ آپ کی قدیم خاندانی روایت کے مطابق آپ قریشی الاسدی تھے۔ آپ کا شجرہ نسب صحابی رسول ص حضرت ھبار ؓ بن اسود سے ملتا ہے جو حضرت خدیجہ رض کے چچا مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصیٰ کے پوتے تھے ۔ اور اسی نسبت سے اس خاندان کو قریشی الاسدی کہا جاتا ہے ۔
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رح آپ کے ہمعصر اور مقرب خاص تھے ۔انہوں نے بھی آپ کو قریشی الاسدی ہی کہا اور آپ کے فرزند شیخ صدرالدین عارف کی قلمی بیاض کے حوالہ سے آپ کا شجرہ نسب اپنے ملفوظات میں اس طرح بیان فرمایا ۔
“حضرت شیخ الاسلام شیخ بہائوالدین زکریا بہاءالحق بن شیخ محمد غوث بن شیخ جلال الدین بن شیخ علی قاضی بن شمس الدین بن عبداللہ بن حسین بن المطرف بن خزیمہ محمد بن حازم بن محمد بن المطرف بن عبدالرحیم بن عبدالرحمن بن ھبار بن اسود بن عبدالمطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی ٰ ”
از خلاصة العارفین ص 5

اسی طرح تاریخ فرشتہ کے مولف نے شیخ عین الدین بیجاپوری رح کی کتاب تزکرہ اولیائے ہند کے حوالہ سے فرمایا ۔
” شیخ بہائوالدین زکریا از اولاد ھبار بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصیٰ است و ھبار اسلام آوردہ بود ۔ برادران او و دمعہ عمرو عقیل با حالت کفر در جنگ بدر بقتل رسیدند ۔و سودہ کہ در زمان پیغمبر ص بود و دختر دمعہ است ”
(شیخ بہائوالدین زکریا ھبار بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ کی اولاد سے تھے ۔ جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر ان کے بھائی دمعہ اور عقیل کفر کی حالت میں جنگ بدر میں قتل ہو گئے تھے ۔اور سودہ جو پیغمبر ص کے زمانہ میں تھی وہ دمعہ کی بیٹی تھی )
ان کی اولاد اسی نسب پر فخر کرتی رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بھی تبدیلی آنا شروع ہو گئ ۔ ان میں سے بعض نے دنیاوی عزت و شہرت کی خاطر اپنے آپ کو ہاشمی اسدی لکھنا شروع کر دیا ۔اور ایک شجرہ بھی گھڑ لیا گیا ۔جو اسد بن ہاشم سے ملتا ہے ۔ جناب اسد حضرت علی ؑ کے نانا تھے۔ لیکن یہی شجرہ ان کے کذاب ہونے کی گواہی بن گیا ۔ وہ اس لیے کہ حضرت اسد بن ہاشم کی نسل نہ چلنے پر تمام نسابین کا اتفاق ہے ۔ جیسا کہ ابن قتبیہ نے المعارف میں لکھا لیس فی الارض ھاشمی الا من ولد عبد المطلب یعنی روئے زمین پر اولاد عبدالمطلب کے علاوہ کوئ ھاشمی نہی ۔ اور ابن حزم جمھرة الانساب العرب صفحہ 7 پر فرماتے ہیں ۔ فولد ہاشم بن عبدمناف شیبة وھو عبدالمطلب وفیہ المعمور والشرف ولم یبق لھاشم عقب الامن عبدالمطلب فقط ۔۔ اور فرمایا وکان لھاشم ایضاً من الولد نضلة ، و ابو صیفی ، و اسد بنوھاشم بن عبد مناف انقرضت اعقابھم ۔ (نضلہ ،ابوصیفی اور اسد پسران ھاشم بن عبد مناف کی نسل ختم ہو گئی ) افسوس ہے جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ھاشمی لکھنا شروع کیا تھا آج ان میں سے اکثر ناموں کے ساتھ سید بھی لکھ رہے ہیں ۔ اور بعض نے تو ہاشمی قریشی والی نسبت بھی ترک کر کے کھلم کھلا گیلانی اور بخاری لکھنا شروع کر دیا ہے ۔ اللہ ان کو ہدایت دے
سید محسن رضا کاظمی الحمیدی