سیاست کابے تاج بادشاہ (مولانا فضل الرحمان) انتخاب مولانا عبدالمجید توحیدی

0
25

سیاست کابے تاج بادشاہ (مولانا فضل الرحمان) انتخاب مولانا عبدالمجید توحیدی میں

مولانا فضل الرحمن 21اگست 1953 ء
بروز جمعہ المبارک
عیدالضحیٰ کے مبارک دن کو پیدا ہوئے ۔
ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے کیااور گاوں کے اسکول سے پرائمری پاس کرنے کے بعد ملتان کا رخ کیا، وہاں سے 1965 ء میں امتیازی نمبروں کے ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کر کے دینی تعلیم کی طرف راغب ہوگئے۔
ابتدا ہی سے نہایت ذہین اور اپنے ہم جماعت ساتھیوں میں نما یاں رہے ۔انہوں نے ایک مکمل دینی گھرانے میں آنکھ کھولی،
انہوں نے 1972 ء میں نو عمری کے دوران پہلا حج کیا ۔
وہ بچپن میں والی بال کے بہترین کھلاڑی تھے،شعر و شاعری سے ان کو حد درجہ لگاو ہے اور خود بھی بعض اوقات اردو شاعری کرتے ہیں۔ان کے والد مفتی محمود صاحب بھی فارسی اور عربی کے اچھے شاعر تھے۔
شاعروں میں علامہ محمد اقبال کی شاعری کے ساتھ ساتھ فیض احمد فیض کی شاعری کو پسند کرتے ہیں ۔
وہ اپنے والد صاحب سے بہت متاثر ہیں ۔ہر ایک کو اپنی دلیل سے متاثر کر نے والی اس شخصیت کا سیاست سے دلچسپی خاندانی ہے۔
وہ زمانہ طالب علمی میں اپنی فکری طلبا جماعت کے ساتھ بہت سرگرم رہے اور نوعمری میں طلباء حقوق کیلئے قید و بند کے تکالیف بھی برداشت کیے۔دوران طالب علمی مئی 1974 ء کو ملتان سے ان کی پہلی گرفتاری ہوئی پھر مارچ 1977 ء میں تحریک نظام مصطفےٰ کے دوران انہوں نے طالب علم ہو نے کے با وجود پشاور میں جلسے کی قیادت کی،اسی دوران پولیس نے ان کے جلسے کو گھیرے میں لے لیا اور سخت مزاہمت کے باوجود گرفتار کرکے لے گئی۔اسی گرفتاری کے دوران انہوں نے مارکس اور لینن کے فلسفے کا مکمل مطالعہ کیا اور قید خانہ میں موجود سوشلیزم و کمیونزم کے حامیوں کے ساتھ بحث میں حصہ لے کر ان کے دانت کھٹے کر دیتے۔
1979 ء میں وہ تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوئے اور اگلے سال14 اکتوبر 1980 ء میں وہ اپنے عظیم والد مولانا مفتی محمود کے انتقال کے باعث ناقابل تلافی صدمے سے دو چار ہو ئے۔ان دنوں مولانا فضل الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں جنرل ضیا ء الحق کی آمریت کو للکار نے کی سزا کا ٹ رہے تھے اور وہ اس بات سے غافل تھے کہ جمعیت علماء اسلام کی ذمہ داری ان کے ناتواں کندوں پر آن پڑی ہے۔
جب مولانا کے ایک رفیق نے جیل میں ملاقات کر کے بتا دیا کہ آج کے بعد آپ جمعیت علما ء اسلام کے جنرل سیکرٹری ہیں تو مولانا کی آنکھیں نم ہو گئی اور کہنے لگے کہ اس عظیم جماعت کو سہارا دینے کے لئے پہاڑ جیسے حوصلے کی ضرورت ہے جبکہ میرے والد کے دنیا سے رخصتی کے زخم ابھی تازہ ہیں اوپر سے گھریلو ذمہ داری بھی مجھ پر ہے۔ لیکن ساتھیوں نے انہیں ثابت قدم رہنے کی ہدایت کی اور قدم قدم حمایت کی یقین دہانی کرا دی۔جس کی وجہ سے ان کے حو صلے بلند ہو گئے اور بقول شاعر
مشکلیں اتنی پڑی کہ مجھ پر آساں ہو گئی
27 سال کے عمر میں مولانا فضل الرحمن جمعیت علماء اسلام کے مر کزی جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے۔
مولانا فضل ا لرحمن بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں انہوں نے جہاں جہاں قدم رکھا وہاں اپنی بساط سے بڑ ھ کر کارنامے سرانجام دئے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر تنقید کا نشانہ بھی بنتے آ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن جب جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری بنے تو ملک جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے زد میں تھا خصوصآ ضیاالحق نے سیاسی جماعتوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا ہوا تھا۔
ایک ایسے ماحول میں چند سیاسی پارٹیوں نے مارشلء لائی نظام کے خلاف MRD کے نام سے تحریک کا آغاز کر دیا اور جے یو آئی بھی ان چند جماعتوں میں سے ایک تھی۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے پہلے سیاسی ایننگز میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت کو چلنج کردیاجس پرجون 1982 ء میں وہ نظر بند کردیئے گئے اور بعد ازاں انہیں جیل میں قید تنہائی دی گئی۔
جب MRD نے 14 اگست 1983 ء سے باقاعدہ تحریک چلاتے ہوئے گرفتاریوں کا اعلان کیا تو 10 اگست کو مولانا فضل الرحمن پشاور سے گرفتار ہو کر ہری پور جیل میں قید تھے، جہاں وہ فروری 1984 تک قید رہے۔
دسمبر 1984 ء میں جنرل ضیاء الحق کے حق میں ریفرنڈم کا اعلان کیا گیا تو اسی روز پشاور میں جلسہ کر کے مولانا فضل الر حمن نے ریفرنڈم کو مسترد کر دیا ، جس پر مولانا فضل الرحمن ایک مر تبہ پھر گرفتار ہوئے۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنی ابتدائی سیاسی زندگی مکمل طور پر بھرپور اپوزیشن کر تے ہوئے گزاری۔
1993 میں مولانا فضل الرحمن خارجہ امور کے چیرمین منتخب ہوۓ۔یہاں سے مولانا فضل الرحمن نے بین الاقوامی شہرت اختیار کی۔
انہوں نے خارجہ امور کے چیرمین کے طور پر تمام بڑے مما لک کے دورے کئے اور کشمیر کاز کو اپنے دوروں کا محور بنایاخصوصآ ہمسایہ ممالک اور مسلم ممالک کو پاکستان کے قریت لانے میں مولانا کا مرکزی کردار ہے۔
ایک موقع پر پاک انڈیا تناو شدت اختیار کرنے لگا تو مولانا فضل الر حمن نے انڈیا کا دورہ کیا اور انڈیا کو اپنے روئے میں لچک پیدا کرنے پر مجبور کردیا
ڈکٹیٹر مشرف نے بھی مولانا فضل الرحمن کو جیل میں نظربندکیا
2002 ء میں مولانا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنے تو پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ا
مولانا کی ذہانت پر تبصرہ کر تے ہوئے مغرب کی نمائندگی کرنے والا ادارہ بی بی سی اپنی رپورٹ میں کہتا ہے کہ مولانا بیک وقت پانچ رنگین گیندیں ہوا میں اچھا لنے کے
ما ہر ہیں۔
جبکہ 2005 ء میں ایشین سروے رپورٹ نے مولانا فضل الرحمن کو پاکستان کا پہلا ایشیاء کے پانچواں اور دنیا کا انیس واں ذہین ترین سیاست دان قرار دے دیا۔
ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﺣﺎﻣﺪ ﻣﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ” ﺫﮨﯿﻦ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻥ ” ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ.
ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﺩﻻﺋﻞ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮈﯾﺰﻝ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﮐﮯ ﮈﯾﺰﻝ ﮐﺎ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮨﻮﻧﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ” ﺍﻟﺰﺍﻣﯿﻮﮞ ” ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﮯ .
ﻓﺮﻗﮧ ﻭﺍﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺧﺎﺗﻤﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ 3 ﺑﮍﮮ ﻣﮑﺎﺗﺐِ ﻓﮑﺮ ﺍﮨﻞِ ﺣﺪﯾﺚ ، ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ،، ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ,ﺁﭖ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻣﮑﺎﺗﺐِ ﻓﮑﺮ ﮐﮯ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﻗﺎﺋﺪ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
ﻋﻘﯿﺪﮦِ ﺧﺘﻢِ ﻧﺒﻮﺕ ﷺ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻣﻮﺱِ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﯿﮟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔۔۔ ” ﺭﻭﺿﮧِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮩﺎ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﺧﺘﻢِ ﻧﺒﻮﺕ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﭘﺮ ﺣﺮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ.
ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﻋﻠﯽٰ ﭘﺎﮰ ﮐﮯ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺣﺎﺻﻞ ﺭﮨﺎ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﻘﺎﮦِ ﺳﺮﺍﺟﯿﮧ ﮐﻨﺪﯾﺎﮞ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﺧﺎﻥ ﻣﺤﻤﺪؒ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺘﯽؒ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ.اﭖ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭘﺮﺍﻣﻦ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﻮ ﻓﺮﻭﻍ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﻭﭨﻮﮎ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ,ﺗﺤﻔﻆِ ﻧﺎﻣﻮﺱِ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺭﺽ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮐﯿﮟ.
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻗﺒﺎﺋﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ” ﮔﺮﯾﻨﮉ ﻗﺒﺎﺋﻞ ﺟﺮﮔﮧ ” ﻣﻨﻌﻘﺪ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﭨﺎ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺎﺭﻣﻮﻻ ﺩﯾﺎ ﺗﺎﮨﻢ ﺧﻔﯿﮧ ﻗﻮﺗﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ
ﻓﺤﺎﺷﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺟﻠﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﺎ
ﮔﻮﻟﮍﮦ ﺷﺮﯾﻒ ﺟﯿﺴﮯ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﻣﺮﺍﮐﺰ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﮐﻮ ﺧﺘﻢِ ﻧﺒﻮﺕ ﷺ ﭘﺮ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
پاکستان میں جب جمہوریت کے خلاف دھرنا سیاست اپنی اوج کو پہنچی اور اسلام آبا د 126دن یرغمال رہا تو ہر زبان پر ہی الفاظ تھے کہ ’’ حکومت آ ج گئی کہ کل گئی‘‘، ہر سیاسی پنڈٹ اس بات کا گواہ ہے کہ اس شدید بحران سے جمہوریت کی ناو کو بچانے میں مولانا فضل الرحمن کا اھم کردار رہا۔ اور ایمپائیر کی انگلی بھی اٹھنے والی تھی ،یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان پر برا وقت آیا ، تمام اداروں کی امید کی کرن مولانا فضل الرحمن ہوتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن قید وبند کی تکالیف سے لے کرپے در پے جان لیوا حملوں سے گزر کر آج بھی الحمد اللہ سیاست کے بے تاج باد شاہ بن چکے ہے