مولاناسمیع الحق شہیدرحمہ اللہ اورمسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان تحریر ۔ مولانا تنویراحمداعوان

0
64

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مولاناسمیع الحق شہیدرحمہ اللہ اورمسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تحریر ۔مولانا تنویراحمداعوان

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو روزِاول سے ہی اکابر علماء کرام اور ملک و ملت کا درد رکھنے والی معتبر قومی ،علمی ،سیاسی ،سماجی اور صحافتی شخصیات کی تائید اور اعتماد حاصل ہے ،مولاناسمیع الحق شہید نے ہمیشہ اپنائیت ،سرپرستی اور ہمدردی کے اس رشتے کا لحاظ رکھا اور ہر فورم پر ایم ایس او پاکستان کے کاز و مشن کی تائید فرمائی ،طلبہ اجتماع ہو یا استحکام پاکستان سیمینار آپ نے بنفس نفیس شرکت فرما کر MSOپاکستان کے نوجوانوں کے حوصلوں کو بڑھایا اور اپنی تائیدات سے بھی نوازا۔بلاشبہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے بڑھتے قدموں میں آپ کی دعاؤں اورحوصلہ افزائی کا بڑا حصہ ہے ۔
2نومبر 2018کو آپ کی شہادت کا عظیم سانحہ پیش آیا ،جس کا غم پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں نے محسوس کیا ،بلاشبہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے لیے یہ سانحہ کسی قیامت سے کم نہ تھا کہ مسلم نوجوانوں کا غمگسار مظلومانہ انداز میں شہید کردیا گیا ،اورطلبہ اپنے ہمدرد ،سرپرست اور دعا گو سے محروم کردیئے گے ،چنانچہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے آپ کی قومی ،سیاسی ،سماجی ،علمی اور تحریکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تعزیتی ریفرنس وفاقی دارلحکومت اسلام آباد 15نومبر 2018کونیشنل پریس کلب میں منعقد کیا ،جس کے مہمان خصوصی جانشین مولاناسمیع الحق شہید مولاناحامد الحق حقانی تھے ،جب کہ ناظم اعلیٰ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان محسن خان ،چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ محمد طاہر اشرفی ،چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز ،چیئرمین تحریک نوجوانان پاکستان عبداللہ گل،مولانا ظہور احمدعلوی وفاق المدارس العربیہ پاکستان ،مولاناشبیر احمد کشمیری،،مولانا یوسف شاہ،راہنما شرجیل میر، ملک مظہر جاوید ایدوکیٹ ،شہیر سیالوی، بشیر عثمانی، حریت راہنما عبدالحمید لون،شہزاد عباسی ،عبداللہ خان ،اسامہ قریشی ،ارسلان کیانی اور دیگر نے خطاب کیا ۔مولانا سمیع الحق شہید ؒ سے منسوب تعزیتی ریفرنس میں پیر مولانا عبدالمعبود،،مولانا قاسم قاسمی تحریک انصاف علماء ونگ اسلام آباد،مولانا تنویرعلوی ،راہنما اہلسنت والجماعت حافظ نصیر احمد ،مولانا عبدالخالق ،مولاناظہورالہی ،سردار مظہر ،چوہدری ایاز ،مفتی محمد شکیل، ،قاری عزیزالرحمن ،اسیدالرحمن ،مولانا حسین طارق ،مولانامحمدطیب سمیت راولپنڈی ،اسلام آباد کے علماء کرام ،دینی وعصری تعلیمی اداروں کے طلبہ ،مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مولاناسمیع الحق کی شہادت قومی سانحہ ہے ،آپ غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان کی جدوجہدکااستعارہ تھے،امت مسلمہ کے دکھ اور درد کوہر گھڑی محسوس کرنے والے عظیم راہنما تھے، آپ اتحاد وارتباطِ امت کے داعی تھے ،شہید ناموس رسالت مولانا سمیع الحق اسلاف امت کی علمی ،تحریکی ،تصنیفی اور روحانی میرات کے امین تھے ،آپ کی پارلیمانی،سیاسی ،ملی،تحریکی ،دینی اور علمی خدمات کا تادیر یاد رکھا جائے گا،مولانا سمیع الحق شہید ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ،پاکستانی کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے آپ نے غیرمعمولی کردار ادا کیا ،مولاناسمیع الحق شہید نے ہمیشہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی سرپرستی فرمائی ،آپ ملاں اور مسٹر کی طبقاتی تفریق کے خاتمے اور یکساں نظام تعلیم کے لیے ایم ایس او پاکستان کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے،ارباب اختیارکوئی نیا سانحہ رونما ہونے سے پہلے مولانا سمیع الحق شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے نشانِ عبرت بنا کر ملک اور اسلام دشمن قوتوں کو منہ توڑ جواب دیں۔
جانشین مولاناسمیع الحق شہید ؒ مولاناحامد الحق حقانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تمام زندگی کی جدوجہد نفاذِ اسلام کے لیے تھی ،مولانا کی موت کو غلط رنگ مت دیا جائے،مولانا ناموس رسالت کے لیے فکرمند تھے ،مولانا کی شہادت میں ملک وملت دشمن عناصر ملوث ہیں ،آپ کے خون کی برکت سے کئی خیر کے ابواب کھلیں گے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پروفیسر قبلہ ایازنے کہا کہ مولاناسمیع الحق کی شہادت ایک تسلسل کا حصہ ہے ،کہ ہمارے معاشرے کے ارتباط اورحسن کو ختم کرکے تشدد کورواج دینے کاجب بھی منصوبہ بنایاجاتاہے تو ایسی ہی شخصیات کو نشانہ بنا کر اپنے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔جامعہ حقانیہ سے میرا تعلق 1969 ء میں قائم ہوا ،میرا تنظیمی سفرجمیعت کے پلیٹ فارم پراسی جامعہ سے ہوا ہے ،آپ پدرانہ اوربرادرانہ رویہ رکھنے والے ایک ہنس مکھ انسان تھے۔آپ کی زندگی کے دو پہلو ں کا تذکرہ کروں گا ۔اول یہ کہ ملی یکجہتی کونسل کل پاکستان ارتباط کی جدوجہد ہے ان میں تمام مسالک اور خانقائیں موجود ہیں او آپ کی قیادت اس تنظیم کو حاصل تھی ۔دوسرا پہلویہ کہ آپ نے علمی میراث کا وافر حصہ امت کے نفع کے لیے چھوڑا ہے ،اوریہ آپ کی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا،ہمیں اس کو مطالعہ اور نصاب کا حصہ بنانا ہو گا۔آپ ہر باصلاحیت اور قیمتی شخص کو اس کی تکلیف کے وقت حوصلہ اور سہارا ہوتے تھے ۔آپ کی شہادت سے بڑا نقصان اور خلا پیدا ہو گیاہے،بلاشبہ اسلامی قانون سازی میں آپ کا کردارجاندار رہاہے،آپ کی شخصیت کی مختلف پہلوتادیر آپ کو امت مسلمہ کی نظروں سے اوجھل نہیں دیں گے،آپ کی اہم صفت یہ تھی کہ آپ نفرت کی جگہ محبت کو بانٹنے والے تھے۔
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے تعزیتی ریفرنس کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کے درد کو اپنے سینے میں محسوس کرنے والا ایک عظیم انسان ہم سے رخصت ہوگیا ،دہائیوں پر محیط میری ان سے رفاقت تھی ،میں نے ان کے سفر و خضر ،دن اور رات ،محفل و تنہائی کا مشاہدہ کیا ہوا ہے،وہ دن کو ملک وملت کے لیے جدوجہد کرتے اور رات کو اللہ کے حضور گڑگڑاتے تھے ، وہ دین ووطن کا درد رکھنے والے انسان تھے ،ان کی زندگی ، شہادت اورجنازہ ان کے محب وطن ہونے کی گواہی ہے ۔یہ وطن ہمارا ہے ہم اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ناموس رسالت ،ناموس صحابہ اور تحفظ ختم نبوت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
مولاناسمیع الحق شہید کے سفر وخضر کے ساتھی اور جمیعت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانایوسف شاہ نے کہا کہ مولانا سمیع الحق شہید اتحاد امت کے داعی تھے ،آپ تمام سیاسی ،جہادی ،نظریاتی اور دینی قوتوں کے لیے قابل قبول شخصیت تھے ،مولاناسمیع الحق پر حملہ اورشہادت ایک نظریہ ،سوچ اور فکر پر حملہ تھاجس سے ناقابل تلافی نقصان ہوا،یہ سانحہ ملکی اداروں کے لیے ارلامنگ صورت حال ہے،ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت اس سانحہ کی اعلیٰ سطحی تفتیش کروائے،مولاناکا مشن امن ،سلامتی اور سالمیت کا مشن تھا۔ آیئے !مولانا سمیع الحق شہیدکے مشن کو اپنا کر نصب العین بنا ئیں ۔تحریک نوجوانان پاکستان کے چیئرمین عبداللہ گل نے تعزیتی ریفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولاناسمیع الحق شہادت کی موت پا کر ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ہیں ،امریکہ اپنی شکست کو چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے ،ہماراآرمی چیف سے مطالبہ ہے کہ وہ ای ایس ای ،ملٹری پولیس اوردیگر اداروں کی مشترکہ کمیٹی کے ذریعے ان کے قتل کی تحقیق کروائیں ،اس سانحہ کے موقع پرمولانا حامد الحق کا تدبر قابل رشک اور محب الوطنی کی دلیل ہے ۔مولاناظہور احمدعلوی مہتمم جامعہ محمدیہ اسلام آباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولاناسمیع الحق شہید کی جدوجہد ہمہ جہت تھی ،آپ سیاست ،درس وتدریس اور جہاد کے امام تھے ،آپ بہترین مصنف اور جیدعالم دین تھے ،آپ نے اکوڑہ خٹک کو شہر علم بنا دیا تھا ۔آپ نے پیرانہ سالی کی باوجود ناموس رسالت کی جدوجہد کے لیے سفر جاری رکھا اور اسی سفر میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔مولاناشبیراحمدکشمیری نے کہا کہ مولاناسمیع الحق شہید اسلاف کی روایات کے امین اور حقیقی وارث تھے ،آپ نے حق گوئی اور حق پرستی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مجلس شوریٰ کے امیر ملک مظہر جاوید ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید ختم نبوت ،ہرتحریک اور جدوجہد کے سرپرست مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ ایم ایس او پاکستان کے نوجوانوں کی سرپرستی فرمائی ،آپ نے پاکستان ،قومی اداروں اورنظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی جدوجہد کو آخری لمحات تک جاری رکھا ۔امیر شوریٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایس او پاکستان دینی و عصری تعلیمی اداروں میں اپنا مؤثروجود رکھتی ہے ،ہم تمام لسانی ،طبقاتی گروہی اور مسلکی تفریق سے بالا تر ہو کر اپنی محنت کو جاری رکھے ہوئے ہے،ہم عہد کرتے ہیں کہ ایم ایس او پاکستان مولانا سمیع الحق شہید کے مشن اور کاز کو جاری رکھے گی ،ہمارا مطالبہ ہے کہ مولانا کے قاتلوں کو جلد از جلدگرفتار کرکے کیفر کردارتک پہنچا یا جائے۔جب کہ ناظم اعلیٰ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان محسن خان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ایم ایس او اسلام آباد کے ناظم بلال عباسی اور ان کی پوری ٹیم کو تعزیتی ریفرنس کے منظم انداز میں انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا ،ناظم اعلیٰ ایم ایس او پاکستان نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کی وجہ سے ہم اپنے سرپرست سے محروم ہو گئے ہیں ، مولانا نے سعادت کی زندگی اور شہادت کی قابل رشک موت پائی،ہم مولانا حامد الحق حقانی کو یقین دلاتے ہیں کہ ایم ایس او پاکستان ہم مشکل گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ موجود ہوگی۔یادرہے کہ تاریخی تعزیتی ریفرنس کے اسٹیج کی نظامت عبدالسلام اور مولانا شہزاد احمد عباسی نے سرانجام دی جب کہ مولاناعبدالخالق راہنماجمیعت علماء اسلام کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔