حاجی عبدالوھاب شخصیت و کردار کے آئینہ میں منور اقبال تبسم

0
62

تعارف حاجی عبدالوھاب امیر تبلغی جماعت حاجی عبدالوھاب صاحب (1922ء ) کو انڈیا کے شھر دھلی میں پیدا ھوے آپ کا آبائی علاقہ سھارنپور ھے اور آپ راجپوت کی راو برادری سے تعلق رکھتے ھیں۔۔۔
ھجرت کے بعد آپ وطن عزیز پاکستان کےضلع وھاڑی کی تحصیل بورے والا میں رھائش پزیر ھوے۔۔۔آپ نے تعلیم اسلامیہ کالج لاھور سے حاصل کی اور گریجویشن کے بعد آپ تحصیلدار کے طور پر نوکری بھی کرتے رھے۔۔۔
ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولنے والےانسان مسلمانوں کے حاجی عبدالوھاب ھیں۔۔۔ جسکے دن رات بولنے کی وجہ سے اسکی آواز مستقل طور پر بیٹھ چکی ھے۔۔۔
1944 میں تبلیغی مرکز نظام الدین انڈیا میں تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس دھلوی رح سے ملاقات ھوئی اور تبلیغی جماعت میں مستقل بنیادوں پر وقت لگانا شروع کیا۔۔۔
اور 1992 میں تبلیغی جماعت پاکستان کی شوری کے دوسرے امیر اور PTCL ڈپارٹمنٹ کے ڈایئرکٹر جرنل حاجی بشیر صاحب کی فوتگی کے بعد تبلیغی جماعت پاکستان کی شوری کے تیسرے امیر بن گئے اور تا حال ابھی تک امیر ھی ھیں۔۔۔
حاجی عبدالوھاب صاحب عالم اسلام کے 500 مشھور مسلم شخصیات میں سے 10 نمبر پر ھیں۔۔۔ لیکن مسلم دنیا کی اس عظیم شخصیت کی خاکساری۔خدمت اورعاجزی کا عالم یہ رھا ھے کہ جب مخلوق خدا سوجاتی تھی رات کے اندھیرے میں دو بجے درمیانی رات آپ بزات خود عام عوامی باتھ روموں کی صفائی دھلائی میں دکھائی دیتے تھے۔۔۔ اور جب صبح ھوجاتی تھی تو اللہ کی بڑائی کبریائی بیان کرنا شروع ھوجاتے تھے۔۔۔
جسکی زبان پر ھر وقت بولنے والا کثرتی جملہ یہ ھے کہ اللہ سے سب کچھ ھونے کا یقین اور مخلوق خدا یعن اللہ کے غیر سےکچھ نا ھونے کایقین۔۔۔ رسول مقبول ص کے نورانی طریقوں میں دنیاوآخرت کی کامیابی کایقین اور غیر کے تمام طریقوں میں ناکامی کایقین ۔۔۔ھمارے دلوں میں کیسے آئیگا۔۔۔اور عالم انسانیت کے دلوں میں کیسے آئیگا..۔

خاکسارمئی 2017 کو دوران تین چیلے رائے ونڈ مرکز کے اندر چند علماء سمیت مولانا احسان صاحب اور حاجی صاحب کے ھاں دعا لینے حاضر ھوا۔۔۔تو حاجی صاحب نے دعا سے پھلے چند جملے فرمائے فرمایا کہ میری دعا اور نصیحت یھی ھے کہ اللہ کے راہ میں نکل کر اللہ کے سامنے چارسجدے لگاکر اللہ رب العالمین سے دعائیں مانگو۔۔۔ جو کہ حقیقی بادشاہ ھے اور دعائیں قبول کرنے والی یکتا زات ھے ۔۔۔
میں نے 70 سال سے اللہ کی راہ میں دعائیں قبول ھوتے ھوے دیکھی ھیں اللہ کی راہ میں نکلو اور اللہ رب العالمین کی بڑائی اور کبریائی بیان کرو۔۔۔جو قومیں دعوت کو اپنے سینے سے لگاتی ھیں تو اللہ دعوت کے کام کی قدر کرنیوالی قوموں کو اس کام کے قدر کرنے کیوجہ سے دنیا وآخرت کے خذانوں سے نوازتاھے جس طرح نوح ع نے اپنی قوم سے فرمایا تھا ۔۔۔اللہ دنیاوآخرت کے تمام خذانوں کا رخ ان قوموں کی طرف موڑدیتا ھے غفلت اور انکاری قوموں کو اپنی نعمتوں سے محروم کرکے تباہ وبرباد کردیتاھے۔۔۔ اور میں دعوت کی محنت اور قربانیوں سے وھی کچھ اثرات آنے والے وقت میں وطن عزیز پاکستان کے اندر دیکھ رھا ھوں ۔۔۔
ماضی قریب میں عالم اسلام سمیت عرب دنیا نے بھی اس کام کی قدر نھیں کی آج میں عربیوں کے ھاتھوں سے بھی اس کام کو نکلتا ھوا دیکھ رھا ھوں۔۔۔
غلبہ اسلام اور تحریک ایمان کی اس عظیم محنت تبلیغی جماعت کی بنیادوں میں حاجی صاحب کی جو محنت اور قربانی ھے۔۔۔ اللہ رب العالمین حاجی صاحب کی محنت اور قربانی کو قبول ومنظور فرمائے۔