اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا عوامی لیڈر خان نجف عباس سیال تحریر:سیف اللہ صدیقی احمد پور سیال

0
324

اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا

عوامی لیڈر خان نجف عباس سیال

تحریر:سیف اللہ صدیقی احمد پور سیال

نجف عباس خان سیال کا شمار ان نامور سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے عملی اقدامات اور ترقیاتی کاموں کی بدولت اپنی سیاست کا لوہا منوایا۔عوامی خدمت کا جذبہ نجف عباس خان سیال میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔اسی وجہ سے تو انہوں نے تحصیلدار کی ملازمت کو خیر باد کہہ دیا۔عوام کو مایوسیوں اور محرومیوں کے گرداب سے باہر نکال کر انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہی ان کی زندگی کا محور ومقصد تھا۔عام انتخابات2003ء میں پہلی بار مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ۔وزارت کی آفر ہوئی لیکن انہیں عوامی مفاد زیادہ عزیز تھا اس لیے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور اس کے بدلے میں وہ کام کر دکھایا جو کسی کے وہم وگمان میں ہی نہیں تھا۔نجف عباس خان سیال نے احمد پور سیال کو تحصیل کا درجہ دلوا کر اس شہر کو ایک پہچان ہی نہیں دی بلکہ علاقہ بھر کی کایہ پلٹ دی۔احمد پور سیال اور قرب وجوار کے باسیوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عدالتی امور نمٹانے کے لیے شورکوٹ کے دھکے کھانے سے ان کی جان چھوٹ گئی اور عدالتوں سمیت تحصیل سطح کے تمام دفاتر کا احمد پور سیال میں قیام عمل میں آنے کی وجہ سے انقلاب برپا ہوگیا۔نجف عباس خان سیال نے قلیل عرصہ میں ہی علاقہ بھر کی سیاست کے دھارے کا رخ بدل دیا ۔احمد پور سیال کو تحصیل کا درجہ ملنے سے بہت سے عوامی مسائل کا حل ان کی دہلیز پر ہی ممکن ہوگیا۔لوگوں کو روزگار کے بھی زیادہ سے زیادہ مواقع مل گئے۔نجف عباس خان سیال پنجاب اسمبلی میں بھی حلقہ کے عوام کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔کوئی بھی سائل جب فریاد لے کر ان کے ڈیرہ پر جاتا تو وہ فوری طور پر اس کی شکایت کا ازالہ کرتے ۔اس مقصد کے لیے اگر کسی سرکاری افسر کو فون بھی کرنا پڑتا تو دریغ نہ کرتے۔اسی لیے تو جب وہ اپنی رہائش گاہ پر ہوتے تو ان کے ڈیرہ پر ان کے چاہنے والوں کا تانتا بندھا رہتا۔وہ اپنے حلقہ کے لوگوں کو خوشحال دیکھنا چاہتے تھے اسی لیے تو انہوں نے ترقیاتی کاموں کا جال بچھا کر ان کا معیار زندگی بلند کیا۔یوں کہا جائے کہ نجف عباس خان سیال نے ایم پی اے منتخب ہوکرپہلی بار ہی علاقائی سیاست کو نیا رنگ دیا تو بے جا نہیں ۔وہ ایک ملنسار اور جرات مند سیاست دان تھے۔احمد پور سیال کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے عوض دوسری بار بھی عوام نے انہیں بطور ایم پی اے بھرپور پذیرائی دی اور وہ ایک بار پھر مسلم لیگ(ق) کے پلیٹ فارم سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ۔اگرچہ اس وقت وہ اپوزیشن میں تھے لیکن پھر بھی حلقہ کے عوام کی خدمت میں پیش پیش رہے۔اس دوران انہوں نے فارورڈ بلاک بھی بنایا۔اپوزیشن میں رہ کر بھی اپنے حلقہ کے عوام کو سرکاری ملازمتوں سے نوازا۔ مختلف نجی ٹی چینلز کے ٹاک شوز میں بھی اپنی سیاسی بصیرت کے بھرپور جوہر دکھائے۔تیسری بار عام انتخابات2012ء میں انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے ایم این اے کی نشست پر قسمت آزمائی۔اس بار بھی فتح ان کا مقدر بنی۔رکن قومی اسمبلی منتخب ہوکر انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی۔پنجاب اسمبلی کی طرح قومی اسمبلی کے فلور پر بھی عوامی حقوق کے لیے جنگ لڑتے رہے۔بطور ایم این اے بھی انہوں نے حلقہ بھر کے لیے کراں قدر سیاسی خدمات سرانجام دیں۔کارپٹڈ روڈز کے جال بچھا دئیے۔ بلدیاتی انتخابات کی معرکہ آرائی میں بھی پورا زور لگایا اور اپنی مدبرانہ سیاست سے ضلع کونسل جھنگ میں اپنی ہی پارٹی اور گروپ کا چیئرمین بنا کر سرخروئی حاصل کی۔شریف بردران نجف عباس خان سیال کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔جب 2014ء میں سیلاب آیا تو جائزہ لینے کے لیے گڑھ مہاراجہ کے دورہ پر آئے ہوئے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے خطاب میں یہ کہنے پر مجبور گئے کہ ’’میں نجف عباس خان سیال کا نام لینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ ان سے ڈر لگتا ہے۔‘‘بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ الفاظ بھی کہے کہ نجف عباس خان سیال اپنے علاج کے سلسلہ میں ملک سے باہر تھے میری درخواست پر متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے واپس اپنے حلقہ میں آئے ہیں۔نجف عباس خان سیال گزشتہ سال محرم الحرام کے مہینے میں اچانک دماغ کی شریان پھٹ جانے کی وجہ سے قومے میں چلے گئے اور 11نومبر2018ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔نجف عباس خان سیال اب ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی سیاسی خدمات کی بدولت ان کا نام زندہ رہے گا۔ان کی نماز جنازہ میں انسانوں کے سمندر نے ثابت کر دیا کہ ان کے چاہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہیں وہ داغ مفارقت دے گئے ہیں۔دکانداروں نے اپنی محبت کا ثبوت کچھ اس طرح دیا کہ محسن شہر کی وفات کے سوگ میں بازار بند رکھا۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا