سیاسی سفر نامہ 2002 تا 2018 نجف عباس خان سیال تحریر نوجوان لکھاری امجد علی خان ڈھول احمد پور سیال

0
465

(سیاسی سفر نامہ کی چند جھلکیاں)
نجف عباس خان سیال
2002-2018

تحریر ۔
نوجوان لکھاری
۔امجد علی خان ڈھول احمد پور سیال

گزشتہ روز سرزمین احمدپورسیال کی تاریخ کو روشن کرنے والا چراغ بجھ گیا تھا جسکا آج نماز جنازہ ادا کر دیا گیا جسکے اندر دور دراز علاقوں سے معروف سیاسی کاروباری دینی اور سماجی شخصیات نے شمولیت کی
احمدپورسیال کے باسیوں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔۔آج بہت سارے لوگوں کا مان فخر اور بازو طاقت دار فانی سے رخصت ہو گئے ہیں۔
نجف عباس خان سیال تحصیلداری کی ملازمت کو خیر باد کہ کر سیاست کے میدان میں داخل ہو گئے خان صاحب کو سیاست کے میدان میں اتارنے کا کردار صاحبزادہ محمد نذیر سلطان کا تھا۔
عام انتخابات 2002 میں خان صاحب مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر صوبائ اسمبلی کا الیکشن لڑا جس میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوا

خان صاحب منتخب ہوتے ہی عوام کیلیے شب و روز محنت کی 2005 میں خان صاحب نے وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی سے حلقہ پی پی 83 کی عوام کیلیے تحصیل کی صورت میں تحفہ لے آے۔
تحصیل کے قیام سے سینکڑوں خاندانوں کو روزگار کے مواقع ملے اور ترقیاتی کام ہوے
دوسری مرتبہ ایم پی اے 2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ و صاحبزادہ گروپ کے پینل سے کامیاب ہوے گو کہ اس انتخاب میں حکومت پنجاب پاکستان مسلم لیگ ن کی بنی لیکن خان صاحب عوامی خدمت کے جذبے کو لیکر پاکستان پیپلزپارٹی سے گٹھ جوڑ کر لیا جو کہ گورنر سلمان تاثر کی وساطت ترقیاتی کام کرتے رہے

صاحبزادہ گروپ سے اختلاف کی بنیاد پر عام انتخابات2013 میں آزاد حیثیت سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا اپنا سابق سیاسی حریف عون عباس خان سیال کو ساتھ ملا لیا اور دوسری ونگ نواب فیصل جبوانہ کی صورت میں لی جبکہ پنجاب میں ن لیگ کا ریلہ تھا جسکے پاس ن کی ٹکٹ تھی اسکی سیٹ کنفرم سمجھی جا رہی تھی مگر ہوا کچھ برعکس ۔۔

نجف عباس خان سیال نے ن لیگ کے امیدوار صاحبزادہ محمد محبوب سلطان کو کم و بیش 4000ووٹوں سے ناقابل شکست سے دو چار کر دیا۔
پھر بلدیاتی آنتخابات 2014-15 میں ہوے تو خان صاحب نے دو میونسپل کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے علاوہ کثیر تعداد میں یونین چیئرمین منتخب کرانے میں کامیاب ہوگیا۔۔

پھر ضلع چیئرمین کے انتخاب کا وقت ہے تو اس وقت نجف عباس خان کی سیاسی بصیرت لایق تحسین ہوتی ہے انہوں نے شیخ وقاص اکرم مخدوم فیصل صالح حیات کو اتحادی بنا کر ضلعی حکومت کی بادشاہت نواب بابر خان سیال کی صورت میں حاصل کر لیتے ہیں

شب و روز عوامی کاموں میں مشغول رہ کر اپنی صحت کی حفاظت کو بالاے طاق رکھتے ہوے بالآخر اکتوبر 2017 کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خان صاحب و دیگر اراکین پر سنگین سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر اور بے بنیاد الزام کی وجہ سے غصے ہو کر اجلاس سے واک آوٹ کرتے ہوے اسمبلی کی سیڑھیوں پر برین ہیمرج ہونے سے گر گئے اورایک سال تک علالت میں چلے گئے

نجف عباس خان سیال عوام کے براہ راست مسائل سنتے تھےاور حل کرنے کے فوری اقدامات کرتے تھے اور اسکے سیاست میں آنے سے پہلے جو مقامی سطح پر ناانصافی کی بنیاد پر سیاسی دکانیں قائم تھیں انکا خاتمہ ہوا۔

خان صاحب کی شخصیت کا احاطہ کرتے ہوے مجھے علامہ اقبال کا شعر یاد آگیا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

عوام کا جم غفیر آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کیا۔رب العزت سے دعا ہے کہ مرحوم کے درجات بلند فرماے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرماے(آمیں)
تحریر :امجد علی خان ڈھول سینیر نائب ضلعی صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹ جھنگ