بھٹو کی پھانسی اور تاریخی سچائی منوراقبال تبسم

0
184

بھٹو کی پھانسی اور تاریخی سچائی

انتخاب ۔۔۔۔۔منوراقبال تبسم

11 نومبر 1974 کی رات لاھور میں ایک قتل ہوا تھا جس نے پاکستان کی آنے والی تاریخ بدل دی تھی لیکن کہانی کا ایک رخ اوربھی ہے۔

یہ 23 مارچ 1931 کی شام کے 7 بج کر 30 منٹ ہیں ۔اچانک لاھور کے سینٹرل جیل میں تین نوجوانوں کو پھانسی دے دی جاتی ہے۔ان کی پھانسی کا وقت عدالتی حکم نامے میں 24 مارچ 1931 صبح 6 بج کر 30 منٹ تھا لیکن شورش کے پیش نظر وقت سے 11 گھنٹے پہلے پھانسی دے دی گئی ۔جن کو پھانسی دی گئی ان کے نام تھے۔بھگت سنگھ ۔راج گرو۔سکھ دیو۔
بھگت سنگھ کو جیل میں پھانسی دینے کے لئے کوئی مجسٹریٹ وہاں جانے کے لئے راضی نہیں ہو رہا تھا، کیونکہ جیل کے تمام قیدی مشتعل تھے، تاہم ایک آنریری مجسٹریٹ نواب محمد احمد خان نے یہ سرکاری ڈیوٹی سر انجام دی۔اس نے بھگت سنگھ کی موت کی سرکاری تصدیق کی تھی۔

وقت گذرا اور 11 نومبر 1974 آگیا۔سنٹرل جیل کی وہ جگہ اب جیل سے باھر تھی اور شاہ جمال چوک کہلاتی تھی ۔اسی جگہ اس رات ایک قتل ہوا۔قاتل بھیجے تو بیٹے کے لئے گئے تھے لیکن گولی باپ کو لگ گئی ۔بیٹے کا نام تھا احمد رضا قصوری اور باپ کا نام تھا نواب محمد احمد خان ۔
جی وہ ہی آنریری مجسٹریٹ جس نے اسی جگہ بھگت سنگھ کی موت کی سرکاری تصدیق کی تھی۔
اس قتل کی ایف آئی آر ذولفقار علی بھٹو کے خلاف کاٹی گئی اور اسی جرم میں اسے 4 اپریل 1979 کو پھانسی دی گئی ۔یہاں ایک اور تاریخ کا گول چکر یے ۔جس جلاد نے بھگت سنگھ کو پھانسی دی تھی اسی جلاد کے بیٹے تارا مسیح نے ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تھی ۔

آئیے اب 11 نومبر 1974 کو کیا ہوا تھا ۔یہ جان لیتے ہیں ۔

11 نومبر 1974ءکی نصف شب لاہور میں شادمان اور شاہ جمال کے سنگم پر واقع گول چکر کی طرف شمالی سمت سے ایک کار نمودار ہوئی تو یکایک خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ اس کار کا گول چکر کے اردگرد نصف دائرے میں گھومے بغیر کسی بھی طرف مڑنا ناممکن تھا۔ حملہ آور گول چکر کے عین درمیان میں اور غربی جانب شاہ جمال کی طرف مڑنے والی سڑک پر بھی گھات لگائے بیٹھے تھے۔ فائر کئے گئے پہلے برسٹ سے گاڑی کا بونٹ نشانہ بن گیا اور ہیڈ لائٹس جواب دے گئیں۔ کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود شخص کیلئے گولیاں کوئی نئی بات تھیں نہ حملہ، مگر یہ ناگہانی آفت یکسر مختلف تھی۔ اگلی نشت پر بیٹھے ان کے ضعیف العمر والد کے منہ سے بے ساختہ ”یااللہ خیر“ کے الفاظ نکلے۔ پلک جھپکتے میں گاڑی گول چکر کے درمیان پہنچ گئی، دو تین برسٹ اور فائر ہوئے، گول چکر میں ایستادہ سٹریٹ لائٹس کا بند ہونا شاید منصوبے کا ہی حصہ تھا۔ یہی امر گاڑی میں عقبی نشستوں پر موجود دو عمررسیدہ خواتین کیلئے دست غیب بن گیا۔ گولیاں چلانے والے مشاق اور ماہر نشانہ باز تھے لیکن رات کے اندھیرے میں اپنے اصل ہدف سے چوک گئے۔ بالعموم ایسا نہیں ہوتا! گاڑی چلانے والے شخص کا سٹیرنگ پر بے اختیار جھکنا اور ان کی والدہ کے یکلخت عقبی نشست کی پشت سے ٹیک لگا لینے سے پیدا ہونے والے خلا سے گزرنے والی گولیاں عقبی نشست پر بیٹھی دو خواتین کو تو گزند نہ پہنچا سکیں لیکن سامنے والی نشست پر بیٹھے ضعیف العمر شخص کے سر میں پیوست ہوگئیں۔ ان کا سر دائیں طرف ڈرائیونگ سیٹ پر موجود اپنے بیٹے کے کاندھے پر ڈھلک گیا۔ شادمان، شاہ جمال گول چکر سے گلبرگ، یونائیٹڈ کرسچین ہاسپٹل ”یو سی ایچ“ کا سفر تو اتنا طویل نہیں لیکن اس طرح کی پریشان کن صورتحال میں کار کا ایف سی کالج کے قریب نہر کے پل سے گزرتے ہوئے تیز رفتاری، بدحواسی اور افراتفری میں گرنا بعیداز قیاس نہ ہوتا۔ LEJ-9495 ٹیوٹا مارک2، خدانخواستہ نہر میں گر جاتی تو ملکی تاریخ کے اہم مقدمات قتل میں سے ایک پر تو پراسراریت کی تہہ جم چکی ہوتی۔
لبرٹی مارکیٹ سے ملحقہ یو سی ایچ پہنچ کر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا شدید زخمی کو سٹریچر پر ڈال کر ہسپتال کے عملے کے سپرد کرنے کے بعد اس شخص نے فون پر اپنے بھائی کو اطلاع دیتے ہوئے کہا: ”حادثہ ہو گیا ہے، ہم یو سی ایچ میں ہیں۔“ دوسرا فون اس نے ایس پی لاہور اصغرخان، جنہیں عرف عام میں ہلاکو خان کہا جاتا تھا، کو کیا۔ فون پر ایس پی کی آواز اور انداز سے اسے یہی محسوس ہوا کہ وہ رات کے ایک بجے جاگ رہے ہیں۔ ان کی آواز کی تازگی اور اندازگفتگو اسی بات کا غماز تھا۔ اصغرخان نے کہا: ”آپ گھبرائیے مت، میں ابھی آتا ہوں۔“ بیس پچیس منٹ بعد پولیس کی گاڑیوں کی آمد شروع ہو گئی۔ ”بھاری نفری“ کی تعداد تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تین سو کے قریب پولیس اہلکار یو سی ایچ کے سامنے جمع ہو گئے۔ ایس ایس پی اصغرخان، ڈی آئی جی سردار عبدالوکیل خان اور ڈپٹی کمشنر پرویزمسعود کے علاوہ دیگر حکام بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر نواب محمد احمد خان کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے۔ سر سے بھل بھل بہتا خون زندگی اور موت کے درمیان لمحات کو قریب تر کر رہا تھا۔
تھانہ اچھرہ کے ایس ایچ او عبدالحئی نیازی نے ہسپتال کے استقبالیے سے متصل چھوٹے سے کمرے میں پنسل اور سادہ کاغذ سنبھال کر آہستگی اور دھیمے لہجے میں احمد رضا خان قصوری سے کہا، جناب کارروائی کرنا ہے، آپ بتائیے، آپ کو کس پر شک ہے؟ انہوں نے ایف آئی آر لکھوانی شروع کی، وجہ عناد بتاتے ہوئے کہا، میں قومی اسمبلی کا رکن ہوں، اسمبلی کے اندر اور باہر مسٹر بھٹو کی شدید سیاسی مخالفت کرتا ہوں، 3 جون 1973ءکو بھٹو نے قومی اسمبلی کے اندر تقریر کرتے ہوئے میرے بارے میں کہا تھا ”یہ شخص میرے لئے زہرقاتل ہے اور میں اس سے تنگ آچکا ہوں۔“ بھٹو کے یہ الفاظ اسمبلی کے ریکارڈ پر موجود ہیں، لہٰذا آج کا یہ حملہ جس میں میرے والد شدید زخمی اور میں، میری والدہ اور خالہ معجزانہ طور پر بچ رہے، اسی سیاسی رقابت کی کڑی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا نام لینا تھا کہ ایس ایچ او کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو، متحیر آنکھوں سے وہ احمد رضا قصوری کو دیکھنے لگا۔ اس کے سکڑے ماتھے پر سلوٹیں ابھریں، منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، شاید اسے یہ خیال بھی نہ رہا کہ اس کے ہاتھوں سے پنسل نکل کر فرش پر گر چکی ہے۔ احمدرضا قصوری نے کہا، لکھو، میں اس حادثہ کا ذمہ دار بھٹو کو قرار دیتا ہوں۔ عبدالحئی نیازی کے چہرے پر حیرت کی بجائے خوف محسوس ہونے لگا۔ وہ بمشکل ہکلاتے ہوئے کہہ سکا، جناب….بھٹو! ہاں….بھٹو، زیڈ اے بھٹو، وزیراعظم، قائدعوام۔ احمد رضا قصوری کے ہر لفظ کی ادائیگی میں غصہ، افسوس اور انتقام جھلک رہا تھا۔ عبدالحئی نیازی نے پانی کا گلاس احمد رضا قصوری کو دیا اور بولا: جناب اللہ پر شاکر رہیں۔ انہوں نے ایف آئی آر لکھوانے کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا، وہیں سے شروع کرتے ہوئے بھٹو ہی کہا تھا کہ وہ پنسل کاغذ سنبھال کر باہر نکل گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں ایس پی اصغرخان اور ڈی آئی جی عبدالوکیل خان کمرے میں داخل ہوئے اور شاطر پولیس افسروں کی طرح چکنی چپڑی باتیں شروع کردیں: آپ اندازہ نہیں لگا سکتے اس حادثہ سے ہمیں کتنا دکھ ہوا ہے، نواب صاحب تو ہمارے والد کا درجہ رکھتے تھے۔ ایس پی اصغرخان نے تو معنی خیز لہجے میں انہیں یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ قاتل کو اپنے ماحول میں دیکھنے اور پہچاننے کی کوشش کریں تو بہتر ہوگا۔ ڈی آئی جی عبدالوکیل خان نے یہ پیشکش کی کہ وہ احمد رضا قصوری کی بات مان لیتے ہیں مگر وہ پولیس کی بھی تو سنیں، یعنی یہ حملہ حکومت کی ایما پر ہوا ہے۔ احمد رضا قصوری نامزد پرچہ درج کروانے پر مصر رہے، اسی لئے انہوں نے بھٹو کے نام کے ساتھ وزیراعظم کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ پولیس افسران نے وائرلیس کے ذریعے کس سے رابطہ کیا، ایک سربستہ راز ہے۔ قرین قیاس یہی ہے کہ آئی جی پولیس راو عبدالرشید کو لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ کر رہے ہوں گے۔ اس رات ذوالفقار علی بھٹو ملتان میں نواب صادق حسین قریشی کے وائٹ ہاو¿س میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہی صادق حسین قریشی جنہوں نے قادرپور راں میں پیپلزپارٹی کے جلسہ میں ہنگامہ کروایا تھا تو احمد رضا قصوری، ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے تاکہ انہیں کوئی گزند نہ پہنچے! ڈی آئی جی سردار عبدالوکیل خان نے احمد رضا قصوری ہی نہیں، ان کے رشتے داروں اور احباب کے ذریعے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا نام ایف آئی آر میں درج کرا رہے ہیں! مگر احمد رضا قصوری ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ وقت گزرتا جا رہا تھا، آدھ گھنٹہ بعد سردار عبدالوکیل خان اور اصغر خان پھر اسی کمرے میں آئے اور کہا، قصوری صاحب، آپ پلیز جلدی کریں، پرچہ درج کرائیں، دیر ہو رہی ہے۔ احمد رضا قصوری بولے، دیر تو آپ کی طرف سے ہو رہی ہے، میں نے تو پرچہ لکھا دیا، آپ اس کو درج کر لیں۔ سردار وکیل پھر بولے، آپ اس میں ترمیم کر دیں۔ قصوری نے پوچھا، ترمیم؟ کیسی ترمیم؟ چلیں میں کہہ دیتا ہوں کہ قتل ہوا ہی نہیں، یہ ترمیم ٹھیک ہے؟ وہ جواب میں کچھ نہیں بولے۔ احمد رضا قصوری نے زور دے کر کہا، ڈی آئی جی صاحب، پرچہ تو وہی ہوگا جو میں درج کراو¿ں گا، ویسے آپ بڑے قابل پولیس افسر ہیں، اس کو ایکسیڈنٹ بھی ثابت کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد چپ کا ایک مختصر سا وقفہ آیا جسے ڈی آئی جی نے یہ کہہ کر ختم کیا، چلیں سر آپ یوں کہہ لیں کہ یہ قتل سیاسی وجوہ کی بنا پر ہوا، اور احمد رضا قصوری کا جواب سنے بغیر داد طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے، اب تو آپ مطمئن ہیں؟ اصغرخان نے لقمہ دیا، ہم نے آپ کی بات بھی مان لی ہے۔ احمد رضا قصوری نے کہا، آپ لوگ مقتول پارٹی سے بات کر رہے ہیں یا انارکلی میں شاپنگ۔ میں حقائق کی بات کرتا ہوں، آپ سودے بازی کر رہے ہیں۔ سیاسی وجوہ سے آپ کیا مراد لیتے ہیں؟ عین ممکن ہے مستقبل میں اس کا مطلب یوں لیا جائے کہ نواب محمد احمد خان کو نوابزادہ نصراللہ خان، ولی خان یا کسی اور نے قتل کیا ہے، کیونکہ وہ بھی سیاستدان ہیں۔ میں نامزد پرچہ صرف اور صرف ذوالفقار علی بھٹو ولد شاہنواز بھٹو، سکنہ لاڑکانہ کےخلاف درج کرا رہا ہوں۔ آپ پرچہ درج کر سکتے ہیں تو کیجئے، اتنی ہمت نہیں تو نہ کریں۔ میں کل صبح ہائیکورٹ میں درخواست دے کر پرچہ درج کروانے کی کوشش کروں گا۔ اسی دوران ڈاکٹر سر جھکائے آتے دکھائی دئیے۔ احمد رضا قصوری بیتابی سے ان کی طرف بڑھے، جنہوں نے افسردگی اور آہستگی سے کہا، قصوری صاحب، آئی ایم سوری، نواب صاحب کی جان نہیں بچائی جا سکی۔ اگرچہ ان کے والد کے جانبر ہونے کے امکانات نہیں تھے تاہم امید کی ایک موہوم سی کرن بھی بجھ گئی۔ ڈاکٹر کی زبان سے الفاظ سنتے ہی احمد رضا قصوری کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کیا ہوگی؟ معجزے کی امید کی آخری لو بھی بجھ چکی تھی انہوں نے سردار عبدالوکیل خان اور اصغر خان کو سخت انداز میں ڈانٹ دیا۔ اردگرد کھڑے ان کے عزیز و اقربا نے انہیں سنبھالا، ان کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے، وہ گلا پھاڑ کر چلانے لگے، لوگو! میرے والد کو بھٹو نے قتل کر دیا ہے، میں اس کا انتقام لوں گا۔ بھٹو، تم فرعون بن گئے ہو، میں تمہارے لئے موسیٰ بن جاوں گا۔ غصے اور طیش کے عالم میں انہوں نے نتائج کی پروا کئے بغیر اپنے جذبات کا اظہار کرنا شروع کر دیا،
بلاآخر آئی جی اور وزیراعظم کی اجازت سے احمد رضا قصوری کی طرف سے اپنے باپ کے قتل کی ایف آئی آر NO 402/19742 کاٹی گئی۔ اس وقت پاکستان کے شفاف ترین ساکھ کے مالک جسٹس شفیع الرحمن کی عدالت میں اس ایف آئی آر کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس قتل کے مقدمے کو خارج کردیا گیا۔ لیکن بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔کیونکہ پھر 5 جولائی 1977 آگئی ۔
یہ مقدمہ دوبارہ کھولا گیا ۔اور سماعت شروع ہوئی
24 اکتوبر 1977ء کو لاہور ہائی کورٹ میں یہ معاملہ جاپہنچا جہاں مولوی مشتاق حسین چیف جسٹس ہائی کورٹ تھے۔

18 مارچ 1978ء کو لاہور ہائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو اس مقدمے میں سزا سنائی گئی۔۔ذوالفقار علی بھٹو کو25ہزار روپے جرمانہ یا چھ ماہ سخت قید کی اور سزائے موت کی سزا سنائی گئی۔
۔وعدہ معاف گواہ سیکیورٹی فورسز کے سربراہ مسعود محمود نے اعتراف کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ہی نواب قصوری کو قتل کرنے کاحکم دیا تھا۔

بھٹو کے وکلا نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کی۔

سپریم کورٹ کے سات ججز تھے جس میں سے چار نے سزا برقرار رکھی اور تین نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو قانون کے مطابق اس وقت کے صدر ضیا الحق سے رحم کی اپیل کرسکتے تھے لیکن انہوں نے اپیل دائر نہیں کی اور انکار کردیا جس کے بعد 4 اپریل 1979 کو بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔۔

رہے نام اللہ کا۔