داستان سیاست کون سیاسی جدوجہدکرکے اقتدار میں آیا۔ کون فوجی آمر کے ذریعے بغیر کسی سیاسی جدوجہدکے سیاست میں آیااور کون بیوروکریسی کی مدد سےقومی لیڈر بنا بینظیر بھٹو عمران خان یا میاں نواز شریف تحریر معروف قانون دان چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ

0
215

داستان سیاست
محترمہ بینظیر بھٹو۔۔متحرم عمران خان۔۔
جناب محمد نواز شریف۔۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوال۔۔۔۔۔کون سیاسی جدوجہدکرکے اقتدار میں آیا۔ کون فوجی آمر کے ذریعے بغیر کسی سیاسی جدوجہدکے سیاست میں آیااور بیوروکریسی کی مدد سےقومی لیڈر بنا
بیٹھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر
معروف قانون دان
چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ
گڑھ مہاراجہ جھنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
متحرم دوستو۔ 1977ء کے انتخاب کے بعد عالمی سامراجی طاقتوں کی شہ پر وطن عزیز کے سرمایہ داروں ۔جاگیرداروں ۔ بیورو کریٹس۔ کے گٹھ جوڑکے نتیجہ میں جماعت اسلامی(میاں طفیل محمد)۔ جمیعت علماء اسلام۔(مولانامفتی محمود) جمیعت علماء پاکستان(مولانا شاہ احمد نورانی) تحریک استقلال(اصغر خان)۔ تحریک خاگسار(خان اشرف خان ۔) نیشنل عوامی پارٹی(ولی خان) اور دیگر دو تین چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے 9 جماعتی اتحاد جسے پاکستان قومی اتحاد کا نام دیا گیا (المعروف نو ستارے) نے انتخابات میں دھاندلی کا نعرہ لگا کر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا پھر عوام کو ابھارنے کے لیے سامراجی آشاروں پراس تحریک کو تحریک نظام مصطفی کا نام دے دیا گیا اس وقت کے ملالیڈر شپ اور بھٹو مخالف سیاستدانوں عوام کو خوب بیوقوف بنایا اور ملک کی تباھی کرکے رکھ دی جمہوریت کا بوریا بستر سمیٹ دیا ملک میں اس وقت کے فوجی جنرل ضیاءالحق نےمار شل لاء لگا دیا 90 دن میں الیکشن کا وعدہ ھوا یہ 90 دن گیارہ سال میں بدل گئے ۔ جمعت اسلامی اور دیگر سامراجی گماشتے مار شلائی حکومت کے معاون بن گئے ۔ بھٹو صاحب گرفتار ھوگئے تو اس کے بیٹے شاہنواز بھٹو۔ مرتضی بھٹو چھوٹے تھے ملک سے باہر تھے تو لہزا محترمہ بینظیر بھٹو اپنی والدہ نصرت بھٹو کے ساتھ میدان سیاست میں آئیں فوجی آمر کو للکارہ نظر بند ھوئیں ۔ لاٹھی چارج کا شکار ھوئیں ۔ جیل گئیں ھتیکہ اپنے والد کو پھانسی لگتے دیکھا جلا وطن ھوگئیں اندرون بیرون ملک مارشل لا کے خلاف تحریک چلائی جمہوریت کے لیئے جدوجہد کی آخر کار 1988ء کا قومی الیکشن جیت کر وزیر اعظم بن گئیں۔۔۔۔۔

نواز شریف کی سیاست میں آمد۔۔۔۔۔

میاں نواز شریف نے ائر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی جماعت پاکستان تحریک استقلال میں شامل ھو کر سیاست کا آغاز کیا ۔ جناب اصغر خان صاحب نے ملک میں مارشل لاء کی مخالفت شروع کر دی جس وجہ سےفوجی آمر ضیاءالحق سے حالات خراب ھوگئے سربراہ تحریک استقلال اصغر خان گرفتار کر لئیے گئے تو ان حالات کو دیکھ کر نواز شریف نے تحریک استقلال کو چھوڑ دیا ۔ فوجی آمر کے ساتھ مل گئے مارشل لاء کی بھر پور حمائت کی 1981ء میں مار شل لاء کے تحت پنجاب کے وزیر خزانہ بن گئے حکومت میں آکر میاں صاحب نے اتفاق فونڈر کو حکومت سے واپس کروا لیا اس فونڈری کو حکومتی مراعات سے اتنی ترقی دی کہ وہ اتفاق گروپ آف انڈسٹریز بن گیا میاں صاحب نے پنجاب کی بیوروکریسی سے بھی اور دیگر اقتدار کا تانا بانا بننے والے ھاتھوں سے خصوصی تعلقات استوار کر لئے جنرل ضیاء نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیئے اسلام کے نام کو خوب استعمال کیا صحیح معنوں میں اسلامی روایات اور اقدار کا خوب استحصال کیا بھٹو کو پھانسی دے کر عالم اسلام کو ایک عظیم لیڈر سے محروم کر دیا امریکہ جیسی سامراجی قوتوں کو خوش کر کے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا محترم نواز شریف اس حکومت کا حصہ رھے۔ آمر کا نظام شوری قائم ھوگیا ۔ مجلس شوری بنی صاحب موصوف صوبائی مجلس شوری کے ممبر بنے 1985 میں غیر جماعتی الیکشن کروائے گئے سب مفاد پرست اور اقتدار پسند۔ جمہوریت دشمن سیاست دانوں کو اکٹھا کر کے مسلم لیگ کو زندہ کیا گیا محمد خان جونیجو کو مسلم لیگ کا صدر اور وزیر اعظم پاکستان بنا دیا گیا تو نواز شریف کو وزیر اعلی پنجاب بنایا گیا۔ 1987 میں فوجی آمر نے قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں وزیر اعظم جونیجو کو رخصت کر دیا گیا نواز شریف نے فوجی آمر کا ساتھ دیا پنجاب کے نگران وزیر اعلی بن گئے بیوروکریسی سے خوب تعلقات بنائے نئے الیکشن کا اعلان ھوا لیکن 17 اگست 1987 کو ضیاء الحق حادثہ کا شکار ھو گئے نوازشریف جو ضیاءالحق کو اپنا سیاسی باپ کہتے تھے سیاسی یتیم ھو گئے 1988ء میں الیکشن ھوئے بینظیر وزیر اعظم بنی لیکن پنجاب میں بیوروکریسی کی مدد سے نواز شریف الیکشن جیت کر وزیر اعلی بن گئے اب نواز شریف قومی سطح کے لیڈربن گئے اور بینظیر کے مقابل گنے جانے لگے ۔
اس وقت غلام اسحاق خان صدر پاکستان تھے جنرل ضیاء کی باقیات کو بینظیر کی حکومت نہ بھائی جو ختم کر دی گئی بیوروکریسی اور ضیاء کی باقیات نے 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد(آئی ۔جے ۔آئی)کے نام سے سیاسی اتحاد قائم کیا اسے الیکشن کامیاب کروایا تو نواز شریف وزیر اعظم پاکستان بن گئے
دوستو آپ خود خدا لگتی کہیں کیا نواز شریف کسی سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ھیں ۔

آو اب غور کریں موجودہ وزیر اعظم خان عمران خان کی یہ ایک متوسط گھرانے کا فرد ھے نہ اس کا باپ دادا کوئی جاگیردار جبکہ بینظیر کے والد ذوالفقار علی بھٹو وزیر آعظم پاکستان تھے اس کے دادا سر شاہ نواز بھٹو قیام پاکستان سے قبل وزیر اعلی سندھ تھے لاکھوں ایکڑ اراضی کے جاگیردار تھے اب یہ خاندان سندھ کا وڈیرہ خاندان ھے بینظیر کا ایک سیاسی بیک گراونڈ تھا والد کی پھانسی کے بعد لاکھوں لوگوں کی ھمدردیاں اس کے ساتھ پیدا ھوئیں وسیع وسائل تھے اقتدار میں آنے کے لئے جو ضروری لوازمات درکار تھے اس کے پاس موجود تھے یہ درست ھے حکومت میں آنے کے لئے اس نے جدوجہد کی اور حکومت حاصل کر لی ۔ نواز شریف کو فوجی جرنیل سیاست میں لے آیے یہ بھی سرمایہ دار کا بیٹا تھا لیکن خان عمران خان کو بینظیر اور نواز شریف پر یہ فوقیت حاصل ھے جب یہ سیاست میں آیا نہ سیاسی بیک گراونڈ کی بنیاد پر اور نہ ھی کسی جاگیر کی بنیاد پر اور نہ ھی کسی جنرل یا بیوروکریٹ کی انگشت پر سیاست میں آیا اس نے کرکٹ کھلی نام کمایا اندرون بیرون ملک شہرت پائی اجھی گزر اوقات کے لئے کرکٹ سے پیسہ کمایا سماجی کام میں آیا کنسر ھسپتال بنایا اس ھسپتال بنانے کے لیے لوگوں سے ملا لوگوں نے پذیرائی بخشی شوکت خانم ھسپتال بنا لیا اور چلا کر دکھا دیا جسے لوگ ناممکن کہتے تھے آگے بڑھنے کا حوصلہ عوام نے دیا نوجوان خان کے گر اکٹھے ھونے لگے ملکی حالات ٹھیک کرنے کا نعرہ لگایا۔

اکیلا ھی چلا تھا جانب منزل
لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا
تو پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت معرض وجود میں آگئی پہلا الیکشن لڑا ناکام ھوئے ھمت نہیں ھاری سیاست میں نعرہ کیا تھا ملکی ترقی کے لئےکرپٹ نظام کا خاتمہ ۔ کرپٹ سیاست دانوں سے چھٹکارہ۔ کرپٹ بیوروکریسی کا محاسبہ ۔ آزاد خارجہ پالیسی۔ ملکی وسائل کی حفاظت اور ملکی وسائل عوام پر خرچ۔ بیرونی قرضوں سے نجات۔ مضبوط ملکی دفاع۔ پا کستان کی آنے والی نسلوں کے لئے تعلیم۔ صحت ۔ روز گار ۔ فرسودہ نظام کا خاتمہ نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے مرد قلندر لگا رھا دوسرا الیکشن لڑا صرف سیٹ ملی ھمت نہیں ھاری لگا رھا جیل گیا تشدد برداشت کیا ھمت نہیں ھاری کئی پرانے

0 ساتھی حوصلہ ھار گئے ساتھ چھوڑ گئے پھر بھی محنت کرتا رھا اچھے سیاست دانوں کو قائل کیا کئی قائل نہ ھو ےدیر بعد قائل ھوگئے کئی لوگ تحریک انصاف میں آئے کئی چھوڑ کر جلے گئے تیسرے الیکشن میں حصہ لیا تیس۔ پنتیس قومی اسی طرح صوبائی پنجاب ۔صوبہ سندھ میں نمائندگی مل گئی پھر مزید دلیری کچھ ساتھیوں کے ساتھ کرپٹ نظام کرپشن کے خلاف محنت ھوئی اللہ نے محنت اور خلوص نیت کا اجر دیا تحریک انصاف پاکستان کی تیسری بڑی جماعت بن گئی بڑے بڑے جلسے جلوس ھونے لگے کرپٹ سیاست دانوں کو للکارہ۔ 23/24 سال کی جہد مسلسل کے بعد تحریک انصاف الیکشن جیتی تو خان عمران خان صاحب اب وزیر اعظم پاکستان ھیں عمران خان پاکستان کا واحد سیاست دان ھے جو ملک پاکستان کی سوچتاھے اپنی حکومت کے لئے نہیں ۔ جو ھماری آئندہ آنے والی نسل کا سوچتا ھے۔ اپنی حکومت کی نہیں ۔ جو ملک اور پاکستانی عوام کی عزت بڑھانے کے لئے سخت فصیلے بھی لے رھا ھے تاکہ ملک وقوم اپنے پیروں پر کھڑا ھو جائے غیروں کے اگے آئندہ کبھی جھولی نہ پھیلانی پڑے عمران خان نے اس چیز کی پرواہ نہیں کی کہ ضمنی الیکشن ھار جائے گا ملک کے لئے عوام میں نا مقبول فیصلے کیے مقبولیت میں نقصان بھی ھوا مگر عمران خان کا ھر فیصلہ ملک وقوم کے لئے مفید ثابت ھو رھا ھے ۔ چور اچکے پریشان ھیں ۔ سرکاری املاک پر ناجائز قابضین پریشان ھیں ۔ ملکی خزانہ لوٹنے والے پریشان ھیں ۔ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک لے جانے والے جائیدادیں بنانے والے پریشان ھیں ۔کمیشن کھانے والے سیاست دان پریشان ھیں ۔ جھوٹا پروپگنڈہ اور ہیجان پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے میں لگے ھیں پس عوام ھوشیار باش ۔جھوٹے اور آزمائے ھوئے سیاست دانوں سے بچئے عمران خان کا ساتھ دیجیئے

دوستو! عمران خان سیاست بھی ھے
دراصل وہ ایک سچا اور کھرا لیڈر ھے
وسلام شکریہ۔