وفاقی وزیر اعظم خان سواتی گائے کے تنازعہ سے کوشش کے باوجود جان چھڑانے میں ناکام، اس معاملہ کی مکمل تفصیلات جانیے اس لنک پر

0
49

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی گائے کے تنازعہ سے کوشش کے باوجود جان چھڑانے میں ناکام ہوگئے۔ عثمان خان سواتی نے متاثرہ خاندان سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی اور 30لاکھ روپے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا لیکن نیشنل پارٹی ، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی نے مل کر صلح کی تمام کوششیں ناکام بنادیں جس کے بعد وفاقی وزیر اعظم خان سواتی اور انکے بیٹے کی طرف سے باجوڑ کے متاثرہ خاندان سے معذرت اور تیس لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کی شرط پر طے پانے والے معاہدے کو متاثرہ فریق نے مسترد کردیاہے۔
یہ معاہدہ پی ٹی آئی کے جرگہ اور دو ممبران قومی اسمبلی اور ایک سینیٹر پر مشتمل مصالحتی کمیٹی نے ذاتی دلچسپی لے کر طے کرایا تھا جس کے بعد اعظم سواتی کے بیٹے اور گارڈ نے جیل میں جا کر متاثرہ فریق کو گرفتار افراد سے باقاعدہ معذرت بھی کی تھی۔
علاوہ ازیں عثمان سواتی اپنے گارد کے ہمراہ متاثرہ فریق نیاز کے تھر بھی گئے اور معذرت کی۔

ذرائع کے مطابق باجوڑ سے منتخب ہونے والے دو ممبران بھی گل ظفر بھاگی اور گل داد دورمالاکنڈ کے سینئر فدا محمد پر مشتمل مصالحتی کمیٹی نے ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین میں صلح و صفائی کرادی ۔ جس کے تحت متاثرہ باجوڑ کی فیملی کو 30لاکھ روپے بطور معاوضہ اداکرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اعظم سواتی کے خاندان نے دس سے پندرہ لاکھ روپے جبکہ سینیٹر فدا محمد نے چھ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس حوالے سے متاثرہ فریق نیاز نے پریس کانفرنس میں صلح کی تصدیق کی تاہم اگلے ہی روز نیاز کے بھائی عبداللہ جو جماعت اسلامی ، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے قریبی سمجھے جاتے ہیں نے تینوں اپوزیشن جماعتوں کے بہکاوے میں آکر صلحسے انکار کردیا ۔ ایم این اے گل ظفر کے سیکرٹری سجاد نے بتایاہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے متاثرہ فریق نیاز کے بھائی کو اپنی مٹھی میںلے کر وفاقی وزیر کیخلاف سیاسی فضا بنانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں