وزیر اعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہنگامی ملاقات، ملاقات کے دوران ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال سمیت آسیہ مسیح کیس پر بھی پر تبادلہ خیال، اس ملاقات کی مکمل تفصیلات جانیے اس لنک میں

0
76

وزیر اعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہنگامی ملاقات، ملاقات کے دوران ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات وزیر اعظم ہاؤس میں ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق وزہراعظم عمران خان اور آرمی چیرف جنرل قمر باجوہ کے درمیان ہنگامی ملاقات ہوئی ہے۔ وزیراعظم ہاوس سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی ملاقات وزیراعظم ہاوس میں ہوئی۔
ملاقات کے دوران ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں بدھ کے روز آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے قومی سے ہنگامی خطاب بھی کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پرجوزبان استعمال ہوئی اس پر آپ سے بات کرنے پرمجبورہوں۔
جوججزنے فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق دیا ہے۔ ہم نے پہلی بار او آئی سی میں معاملہ اٹھایا اور یو این میں معاملہ اٹھایا۔ کسی کاایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتاجب تک نبی کریم ﷺسےعشق نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کی شان میں گستاخی آزادی رائے نہیں۔ ہم نبی کریم ﷺکی شان میں کسی قسم کی گستاخی نہیں دیکھ سکتے۔ تاہم آسیہ بی بی کیس پر ججز نے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔
پاکستان کا آئین و قانون قرآن کے تابع ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پرچھوٹے سے طبقے نے ردعمل دیا ہے۔ مدینہ کی ریاست کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں کوئی قانون اسلام کے منافی نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگ فوج اور جرنیلوں کوکہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کیخلاف بغاوت کریں۔ فیصلے کے بعد بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کےججرواجب القتل ہیں۔
جوزبان استعمال کی گئی کون سی حکومت چل سکتی ہے۔ اس معاملے میں حکومت کا کیا قصورہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے۔ یہ لوگ کوئی اسلام کی خدمت نہیں کررہے،یہ ملک دشمن عناصراس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ اپنی سیاست اور ووٹ بینک کے چکر میں ملک کے خلاف کام نہ کریں۔ ملک دشمن عناصرایسی باتیں کرتے ہیں کہ ججوں کوقتل کردوفوج میں بغاوت ہوجائے۔ ریاست کومجبور نہ کریں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے، ریاست لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کرے گی، ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے، امن و امان کی صورتحال کسی صورت خراب نہیں ہونے دیں گے۔