وارڈن پولیس نیامت علی سب انسپکٹر اور کانسٹیبل سعید دھرم کوٹ ایمن آباد سیالکوٹ پر صحافی سے بد تمیزی اور بدمعاشی

0
44

وارڈن پولیس نیامت علی سب انسپکٹر اور کانسٹیبل سعید دھرم کوٹ ایمن آباد سیالکوٹ پر صحافی سے بد تمیزی اور بدمعاشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔تفصیلات کے مطابق تقریبا 2 بجے کے قریب میں وہاں سے گزر رہا تھا ایک لڑکا کانسٹیبل سے الجھ رہا تھا جو ڈبہ کار کا ڈرائیور اور مالک تھا ۔ میں انکے اس روئیے کو دیکھ کر رک گیا اور پوچھا کیا معاملہ ہے اسی دوران انسپکٹر صاحب کاپی قلم پکڑے ہوئے تھے اور کچھ لکھے جارہے تھے ۔ میں نے انسپکٹر صاحب سے پوچھا کیوں الجھ رہے ہیں مجھے ۔۔۔۔ جواب دیا تجھے۔۔۔۔! کوئی تکلیف ہے میں نے عرض کی میرے فرائض منصبی میں شامل ہے میں پوچھو۔۔۔۔۔ سعید نامی کانسٹیبل وارڈن اور لڑکا چالان اور بخشی کے لئے الجھ رہے تھے میں نے انکی اور جناب کے اس روئیے پر موبائل نکالا تاکہ انہیں منظر عام پر لایا جائے یہ لوگ چالان کے نام پر خوب دیھاڑی لگا رہے ہیں۔ ابھی میں نے جیب سے موبائل نکالا ہی تھا کہ نیامت علی سب انسپکٹر نے جھپٹ کر موبائل چھین لیا اور کہا یہاں سے نکلتے بنو ۔۔ اور کہا کل میری ڈیوٹی لاری اڈا سیالکوٹ ہے وہاں آجانا اور لے موبائل لے جانا اتنے میں کانسیبل ڈبہ کار کے ڈرائیور سے پیسے وصول کرچکا تھا اور مجھے کہاتم یہاں کیوں کھڑے ہو اور کیا کام ہے میں نے اپنا تعارف کرایا تو انسپیکٹر صاحب اور طیش میں آگئے ۔۔۔ قدرت کا نظام دیکھئیے۔۔۔۔۔ میرے جاننے والا اشفاق نامی شخص جو دھرم کوٹ گاوں کا رہائشی تھا مجھے وہاں دیکھ کر میرے پاس آکر کھڑا ہوگیا ۔ انسپکٹر نیامت علی جس نے بتایا تھا کہ کل میری ڈیوٹی لاری اڈا سیالکوٹ وہاں ہے آکر موبائل لے لینا میں نے اپنے تمام جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کی ایک حیوان صفت انسان اور ایک انسانیت کی صفت رکھنے والے میں کیا فرق رہ جائے گا ہمارا کام الجھنا نہیں انہیں انسان بنانا ہے اور اصلاح کرنی ہے۔ انسپکٹر نے دیکھا اس کی تو یہاں واقفیت نکل آئی اگر واقفیت نہ نکلتی ان کے ارادے کو میں نہیں جانتا ۔۔۔۔ میرا موبائل بند کرکے مجھے پکڑا کر ایک لمحے میں رفو چکر ہوگئے مگر ان کی پکچر اندر کی آنکھوں میں نقش ہیں۔۔ اعلی احکام اگر مناسب سمجھیں تو فوری نوٹس لیں۔۔۔۔۔تاکہ ان ناسوروں کی اصلاح ہو پائے۔۔ وزیر پاکستان کی خواہش تھی وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھنا وہ بیٹھ چکے ہیں ادارےافیسران نے چلانے ہیں جنہیں ہم پیٹ کاٹ کر ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔اتوار کو یہ واقع پیش آیا اور آج منگل ہے اگر پاس سے جاننے والا نہ گزرتا ان کی آنکھوں کی سرخی اور چہروں کے اثرات میرے ساتھ کچھ اور کرنے کا ارادہ رکھتے تھے کیونکہ آبادی سے پیچھے واقع پیش آیا موبائل چھیننے کے ان کے ارادے مکشکوک تھے مشتاق نامی شخص میرے لئے فرشتہ بن کر آیا اور انہوں نے موبائل بند کر تھما کر جلدی سے چلے گئے متعلقہ محکمہ کے ضلعی آفیسر ڈی ایس پی صاحب سیالکوٹ نے ابھی تک کوئی ان کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائے انہیں چاہئے تھا فوری انکوائری کرواتے اور گنہگار ہونے پر ان کے خلاف کاروائی کرتے

رپورٹ ۔رانا عاشق علی تبسم….