اقبال کی شخصیت اور فن کی چند جھلکیاں انتخاب منور اقبال تبسم

0
35

اقبال کی شخصیت اور فن کی چند جھلکیاں
انتخاب منور اقبال تبسم

علامہ اقبال اردو اور فارسی زبان کے ایک ایسے شاعر ہیں جن کا شمار دنیا کے عظیم شاعروں میں کیا جاتا ہے ۔ ان کی شاعری روح کو تڑپانے والی اور قلب کو گرمانے والی شاعری ہے ۔ ان کے یہاں ایک فلسفہ ہے ایک درس اور پیغام ہے ۔ ان کی شاعری ایک مخصوص فکری و تہذیبی پس منظر میں سانس لیتی ہے ۔ وہ ایک غیر معمولی فہم و ادراک اور شعور و بصیرت رکھنے والے شاعر تھے ۔ علامہ اقبال نے ایک ایسے دور میں شاعری کی ابتداء کی جب ہندوستانی برطانوی حکومت کے زیر اقتدار تھا اور انگریزوں کا ظلم و جبر روز بروز بڑھتا جارہا تھا اور ہر طرف خوف و ہراس اور مایوسی و بے چارگی کی فضا طاری تھی ۔ علامہ اقبال اس حالت سے بے حد متاثر ہوئے ان کے دل میں وطن سے محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ انہوں نے ابتدائی دور میں چند انتہائی متاثرکن قومی اور وطنی نظمیں لکھیں ۔ جیسے ہمالہ ، صدائے درد ، ترانۂ ہندی ، نیا شوالہ اور تصویر درد اسی نوعیت کی مقبول نظمیں ہیں ۔

علامہ اقبال کی اردو زبان میں پانچ کتابیں شائع ہوچکیں ہیں ان کی سب سے پہلی کتاب اردو نثر میں ’’علم الاقتصاد‘‘ ہے جو معاشیات کے موضوع پر اردو کی پہلی کتاب ہے ۔ یہ 1903 میں شائع ہوئی اردو زبان میں علامہ اقبال کی شاعری کے چار مجموعے بانگ درا ، بال جبریل ، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز شائع ہوچکے ہیں ۔

علامہ اقبال اپنے حیات ہی میں عالمگیر شہرت حاصل کرچکے تھے ۔ آپ کے کلام کے متعدد ترجمے کئی بین الاقوامی زبانوں میں کئے گئے ان کے کلام میں عشق کی داستاں اور فراق کی نوحہ گیری نہیں بلکہ اس میں قومی ہمدردی کے جذبات ہوتے ہیں ۔ ان کے کلام میں ایک جوش اور ولولہ ہوتا تھا ۔ مسلمانوںکی گرتی ہوئی حالت اور سوئی ہوئی قوم کو جگانے کے پیش نظر اقبال نے ایک ایسا نسخہ کیمیا پیش کیا جس کے اجزا حوصلہ مندی اور خودداری تھے ، وہ اپنی نظموں کے ذریعہ اپنی قوم کی توجہ مادہ پرستی سے ہٹا کر خدا پرستی کی طرف لے جانا چاہتے تھے ۔ علامہ اقبال نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ ایک مفکر ، مصلح قوم ، اخوت کے پیکر اور دانائے قوم بھی تھے ۔ جس کے لئے انہیں ’’سر‘‘ اور ’’علامہ‘‘ جیسے خطابات سے نوازا گیا ۔

علامہ اقبال کے ابتدائی دور کی شاعری حب وطن کے جذبہ سے سرشار ہے ۔اپنے وطن ہندوستان سے ان کی والہانہ محبت اور پھر فرنگیوں کے تحت ان کی غلامی نے انہیں بہت متاثر کیا اور اسی لئے انہوں نے تصویر درد اور نیا شوالہ جیسی خوبصورت نظمیں لکھیں ۔ 1905 کے دورۂ یوروپ نے اقبال کے ذہنی اور فکری ارتقاء میں ایک انقلاب پیدا کردیا یہاں سے ان کی فکر میں وسعت اور دل میں ایک عالمگیر اخوت کا جذبہ پیدا ہوگیا ، جس کے نتیجے میں وہ وطنیت کے نظریہ کیعلاوہ ایک ایسی عالمگیر جمعیت کا تصور ڈھونڈنے لگے جس میں سب کے لئے اخوت و ہمدردی اور عدل و انصاف ہو اور وہ انہیں اسلامی تعلیمات میں نظر آیا ۔ اسی وقت سے وہ ملی شاعر ہوگئے اور مسلمانوں کی ذہنی تعمیر نو میں لگ گئے اور ’’حکیم الامت‘‘ کے نام سے یاد کئے جانے لگے ۔ ان کے دوسرے مجموعے ’’بال جبریل‘‘ میں لینن ، مسولینی اور نپولین جیسے سیاسی رہنماؤں پر بھی نظمیں ملتی ہیں اور ان کا تیسرا مجموعہ کلام ضرب کلیم ہے جو 1936 ء میں شائع ہوا اس کی بیشتر نظمیں وہ ہیں جن کا تعلق حالت حاضرہ سے ہے ، مثلاً اشتراکیت ، کارل مارکس کی آواز ، انقلاب ، جمہوریت اور جمعیت الاقوام ان سب موضوعات پر ان کی نظمیں بہت بصیرت افروز ہیں اس مجموعہ کلام کو علامہ اقبال نے حالت حاضرہ کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ۔
علامہ اقبال اردو شاعری کے وہ گوہر آبدار ہیں جن کی چمک نے کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے ان کی فکر ان کے موضوعات اور ان کے فن کی کوئی حد نہیں ۔ انہوں نے اردو شاعری کے رخ کو موڑ دیا اور زندگی کے حقائق کا ایک وسیلہ بنایا ۔ علامہ اقبال کی شاعری نے اردو شاعری کا مزاج بدل دیا ۔ اس میں بے چارگی ، اداسی اور محرومی کا جو انداز تھا اس کی جگہ ایک توانائی ، امنگ اور ولولہ پیدا کیا ۔ علامہ اقبال کا کلام آزادیت کا علم بردرا اور حریت کا آئینہ دار ہے اور شاعری کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسرا شاعر ہو جس نے شعوری طور پر اپنے زمانے کو اتنا متاثر کیا ہو ان کی شاعری بلاشبہ عہد آفریں شاعری ہے ۔

علامہ اقبال نظم کے ساتھ ساتھ غزل کے بھی ایک کامیاب اور مقبول شاعر ہیں ۔ انہوں نے غزل کی حریفانہ کیفیت کو یکسر بدل دیا اور ایک صحت مند اور پاکیزہ قلب عطا کیا اور غزل میں ایک نئی جان ڈال دی ۔ علامہ اقبال کی غزلوں میں فکر انگیز جوش بیان اور صحت مند روایات کا اظہار ملتا ہے ۔ ان کا جذبہ و مستی ان کی غزلوں کی روح رواں اور جان ہے ۔ تشبیہات واستعارات ، اصلیت جوش ، شاعرانہ مصوری ، جوہر ، بلاغت ان کی غزل کے خاص جوہر ہیں ۔ علامہ اقبال نے غزل کو عامیانہ روش سے الگ رکھا ۔ ان کی غزلوں میں اچھی اور معیاری شاعری کے تمام لوازم پائے جاتے ہیں ۔ مثلاً تنوع ، تاثر ،شائستگی ، نزاکت اور نغمگی سبھی ان کے غزلوں میں موجود ہیں ۔

اقبال کے تجربات اور شاعری کی دنیا بڑی وسیع ہے انہیں مناظر فطرت ، انسانی سیرت اور بین الاقوامی مسائل کو پیش کرنے میں انہیں یدطولی حاصل ہے ۔ ان کے کلام کی صرف یہی خوبی نہیں کہ وہ اپنے دور کی خصوصیات کی ترجمان ہیں بلکہ ان کے کلام میں زندگی سانس لیتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ ان کا تخیل گوئٹے ، رومی ، شکسپیئر ، ملٹن اور غالب سے ہمنوائی کرسکتا ہے ۔ اقبال کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ ایک نئے دور کے بانی تھے اور ترقی پسندانہ خیالات کے اور ان کی غیر معمولی شخصیت نے قدیم و جدید علوم کے ذخیروں کو کھنگال کر اپنی ذاتی غور و فکر سے خودی ، جنون ، ذات ، فرد و عشق کے مضامین کو ایک مستقل نظام کی شکل میں ترتیب دے کر دنیا کے سامنے پیش کیا ان کے کلام میں درد و سوز بھی ہے ، عقل و عشق کا بیان بھی ہے اور حسن کی تعریف بھی ہے ۔ان کے نغموں کی سچائی انسانی ضمیر کو روشن کرتی ہے ۔ غرض اردو ادب میں اقبال ایک ایسے عظیم شاعر ہیں جس پر دنیا ہمیشہ ناز کرتی رہے گی ۔
سرزمین ہندوستان کے آسمان ادب کا جگمگاتا ستارہ اپنی شاعری کی روشنی سے ساری قوم و ملک کو بصیرت عطا کرکے 21 اپریل 1938 میں خود بے نور ہوگیا ، لیکن جب تک اردو زبان و ادب زندہ رہیں گے علامہ اقبال کا نام بڑے ہی ادب و احترام سے لیا جائے گا کیونکہ وہ صرف ایک عہد ساز شخصیت ہی نہیں بلکہ عالمگیر شخصیت کے مالک تھے ان پر اردو ادب جتنا بھی ناز کرے کم ہے ۔

انتخاب
معروف صحافی منور اقبال تبسم بانی کوٹ اسلام خانیوال