قتل کے الزام میں ملزم کو گیارہ سال بعد بری کرنے کا حکم، مزیدتفصیلات جانیے اس لنک میں

0
57

سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں ملزم کو گیارہ سال بعد بری کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق بدقسمتی سے جہاں ہمارا سارا نظام خامیوں اٹا ہوا ہے وہیں کچھ ایسے ادارے ہیں کہ جہاں نظام کی سست روی سے عوام براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ان میں سے ہی ایک ہمارا عدالتی نظام ہے جس میں نظام کی سست روی بسا اوقات عوام کو انصاف دلانے میں اس حد تک ناکام رہتی ہے کہ جب تک فیصلے ہوتے ہیں تب تک انکے اثرات یا تو غیر مفید ہو جاتے ہیں یا پھر وہ فیصلے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
آج سپریم کورٹ میں خوش آئند فیصلہ تو ہوا مگر 11 سال کے طویل عرصے کے بعد سامنے آیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم محمد منشا کے خلاف مرید کے میں اپنے بہنوئی اشرف کے قتل کا الزام تھا، ٹرائل کورٹ نے سزائے موت کا حکم دیا تھا، اپیل پر ہائیکورٹ نے سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ گواہان کا سچ نہ بولنا بھی المیہ ہے، ہر عدالت سچ کی تلاش میں ہے، افسوس کہ نچلی عدالتیں سب مان جاتی ہیں، عدالت نے ٹھوس شواہد نہ ہونے کی بنا پر ملزم کو بری کرنے کا حکم دیدیا۔