نیا پاکستان اور بزرگ عالم دین کا قتل( قلم دراز) منوراقبال تبسم

0
35

( قلم دراز)
نیا پاکستان اور بزرگ عالم دین کا قتل

معروف کالم نگار منوراقبال تبسم

یہ ہے نیا پاکستان کی ریاست مدینہ جس میں ایک بزرگ ناتواں نہتے کو چھریوں سے بیدردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا ؟ہم مولانا سمیع الحق کا پس منظر نہیں جانتے لیکن نیا پاکستان کی نام نہاد ریاست مدینہ میں اس ضعیف العمر بزرگ کی المناک موت نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد مولانا حسرت موہانی سے کسی نے پوچھا کہ آپ پاکستان کیوں نہیں چلے جاتے ؟ مولانا نے سرد آہ بھرتے ہوئے جواب دیا “ دونوں جگہ جذباتی جنونیت کا دور دورہ ہے اور اپنی تو دونوں جگہ جان خطرے میں رہے گی۔ یہاں رہے تو جانے کب کوئی ہندو انتہا پسند مسلمان کہہ کر مار ڈالے۔ پاکستان میں یہی کچھ کسی جوشیلے مسلمان کے ہاتھوں ہو سکتا ہے لیکن وہ مجھے گستاخ یا کافر کہہ کر مارے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت میں رہ کر مسلمان کی موت مرنا بہتر ہے پاکستان میں رہ کر “کافر”کی موت مرنے سے۔۔۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا “اگر تم نے کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو اس کی نوجوان نسل میں مذہبی جنونیت پھیلا دو تا کہ اس کے سوچنے اور سوال کرنے کی قوت سلب ہو جائے “۔۔۔اور حضرت علامہ اقبال فرما گئے ہیں “ دین کافر فکر و تدبیر جہاد ،دین ملا فی سبیل اللہ فساد “۔۔۔ادھر فساد بپا تھا ادھر ایک بزرگ عالم دین قتل کر دیئے گئے۔مولانا سمیع الحق بھی مسلمان ریاست میں کسی مسلمان کے ہاتھوں مارے گئے۔ لیکن اس موت نے خلفاءراشدین کی شہادت کے واقعات کی یاد تازہ کر دی۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو باغیوں نے ان کے گھر میں گھس کر خنجر سے شہید کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک غلام نے مسجد نبوی میں خنجر سے تین وار کر کے شہید کر دیا۔حضرت علی کرم الہ وجہہ± پر کوفہ کی مسجد میں کرائے کے ایک قاتل نے خنجر سے حملہ کر کے شہید کر دیا۔۔۔مولانا سمیع الحق کے بارے میںہماری معلومات ناقص ہیں لیکن خنجر یا چاقو کے پے در پے وار سے جو موت انہیں نصیب ہوئی ہے وہ یقیناً شہادت کا مقام ہے۔ اس ظلم کے پس پشت کچھ تو ہے جس نے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ مولانا سمیع الحق کو نہ گولی ماری گئی اور نہ ہی کوئی اور طریقہ شیطانی استعمال کیا گیا بلکہ چاقو اور خنجر کے آلات سے کئی وار کئے گئے۔ اس ضعیف العمرعالم دین کے نصیب میں شاید خلفاءراشدین کی سنت پر شہید ہونا لکھ دیا گیا تھا۔اناللہ و انا علیہ راجعون۔پاکستان میں ظلم و بربریت کی انتہا کسی نے دیکھنی ہے تو ان بزرگ کی شہادت کا واقعہ دیکھ لے۔۔۔مولانا ایک جیّد مذہبی اسکالر، عالم اور سیاست دان تھے۔ مولانا سمیع الحق صاحب اس وقت دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے۔ دار العلوم دحقانیہ ایک دینی درس گاہ ہے جو دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ مولانا دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین تھے اور جمیعت علما اسلام کے سمیع الحق گروپ کے امیر ۔ وہ متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن اور حرکت المجاہدین کے بانی بھی تھے جو ایک مذہبی تنظیم ہے۔ وہ پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن بھی رہے۔مولانا سمیع الحق نے دار العلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد محترم نے رکھی تھی۔ وہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ بر سر اقتدار آنے کی کھلے طور پر حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا ’انکو صرف ایک سال دیجئے اور وہ سارے افغانستان کو خوشحال بنا دینگے سارا افغانستان ان کے ساتھ ہو گا، ایک بار امریکی چلے جائیں تو یہ ایک سال کے اندراندر ہو گا۔تحریک طالبان پاکستان کے پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو غیر اسلامی قرار دینے پر اور لوگوں کو اسے اپنے بچوں کو پلانے سے روکنے پر مولانا سمیع الحق نے پولیو کے حفاظتی قطروں کی حمایت میں ایک فتوہ جاری کیا۔ اس فتوے کے مطابق ’مہلک بیماریوں کے خلاف حفاظتی قطرے ان کی خلاف بچاو¿ میں مددگار ہوتے ہیں۔مولانا سمیع الحق نے آسیہ کی رہائی کے ایشو پر چند روز قبل اپنے اتحادی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرکے انہیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا اور عمران خان کو عالمی دباو¿ مسترد کرنے اور ڈٹ جانے کا مشورہ دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پریشان اور گومگو میں تھے ، یہ ساری بات انہوں نے آسیہ کی رہائی کے فیصلے کے خلاف گزشتہ روز احتجاج میں تقریر کرتے ہوئے بتائی۔ مگر مولانا سمیع الحق کے قتل کا ایک بڑا نقصان افغانستان کے معاملے سے وابستہ ہے۔ افغانستان میں نیٹو افواج اپنی مسلسل ناکامیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر طالبان سے مذاکرت کی میز پر ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی اثر اندازی کا مضبوط کردار مولانا سمیع الحق کی صورت میں موجود تھا۔ حیرت ہے کہ افواج پاکستان کا اتنا قیمتی اثاثہ بغیر سیکیورٹی کے گھر میں چھریوں کے ذریعے قتل ہو گیا۔۔۔؟ مولانا سمیع الحق کی شہادت عمران خان کی حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مولانا سمیع الحق نیا پاکستان کی ریاست مدینہ کا پہلا شہید ہے جو اس حکومت کے لئے آزمائش اور امتحان ثابت ہوگا۔