احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہمیں اسی بنیاد پر ووٹ ملے ہیں،سندھ میں غنڈہ راج ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے،پیپلزپارٹی کی فرسودہ سیاست ہے، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، مزیدتفصیلات جانیے اس لنک میں

0
27

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاہے کہ احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہمیں اسی بنیاد پر ووٹ ملے ہیں،سندھ میں غنڈہ راج ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے،پیپلزپارٹی کی فرسودہ سیاست ہے جس کی آمین آصف زرداری کی پارٹی ہے، پی ٹی آئی نے سندھ میں لسانی سیاست کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے،اگلے الیکشن میں سندھ میں پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت ہوگی، ماضی میں کراچی کو بند کیا جاتا تھا اس دفعہ لاہور بند ہوگیا جب کہ ہم پہلی بار سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے جارہے ہیں۔
وہ اتوارکوکراچی کے مقامی ہوٹل میں سیمینار سے خطاب اور میڈیاسے بات چیت کررہے تھے۔وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہاکہ ماضی میں کراچی کو بند کیا جاتا تھا اس دفعہ لاہور بند ہوگیا جب کہ وزیر خزانہ کو نشانہ بنایا گیا کہ وہ آئی ایم ایف کے سامنے جھک گئے ہیں تاہم اسٹیٹ بینک کو باہر سے ملنے والی رقم سے سپورٹ ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سوشل میڈیا پر کنٹرول بالکل بھی نہیں اور ٹی ایل پی کی جانب سے سوشل میڈیا کا بہت استعمال کیا گیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ انفارمیشن منسٹری ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، ہر بات کہنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کیوں کہ پرانی ویڈیو سامنے آجاتی ہی، پہلے وزراء بیانات دے کر مکر جاتے تھے، زمانہ بدل گیا ہے اور اب ویڈیوز سامنے آجاتی ہیں،وزراء کو اب محتاط رہنا چاہیے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ آسیہ بی بی کیس پر خادم رضوی کا اکائونٹ سرگرم تھا، سوشل میڈیا سے متعدد نیوز آتی ہیں اور انہیں روکنا مشکل ہوتا ہے تاہم ہم پہلی بار ہم سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے جارہے ہیں۔
بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ آصف زرداری نے غریبوں کے اکائونٹس میں پیسے ڈالے ہیں، ان غریبوں کو چاہیے کہ ان پیسوں سے مکر جائیں، چاہے آصف زرداری ہوں یا نواز شریف ،کسی کے کرپشن کے مقدمات واپس نہیں لیں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ دھرنا شرپسندوں کو ریاست بھولے گی نہیں، یہ مذہب نہیں سیدھا سادھا بغاوت کا معاملہ ہے اور بغاوت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ریاست اس رویے کو معاف کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے سے حکومت کی کمزوری کا تاثر دیا جارہا ہے، اس تاثر کو دور کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ احتجاج میں فوج، عدلیہ اور حکومت کو نشانہ بنایا گیا، ریاست اسے نظرانداز نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ دھرنے اور احتجاج ختم کرنے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کرتے تو نقصان کا اندیشہ تھا، پھر تنقید ہوتی کہ طاقت کا استعمال کیوں کیا، ہم نے آگ بجھانے کو ترجیح دی اور بغیر نقصان کے شہروں کو کھولا، لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ وفاق سب کو ساتھ لینے کی کوشش کررہا ہے۔ عمران خان کی وجہ سے سندھ لسانی سیاست سے باہر آیا ورنہ اس سے قبل سندھ میں لسانی سیاست ہورہی تھی۔انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی جانب سے یہ نہیں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت چند دن کی مہمان ہے کیونکہ ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنے سارے وعدے پورے کریں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ کراچی کے حالات کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔