نصاب تعلیم اور تعلیمات محمدی تحریر شاہد امیر لدھیانہ

0
20

نصاب تعلیم اور تعلیمات محمدی

تحریر شاہد امیر لدھیانہ

نصاب تعلیم میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور بنیادی قوانین کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت”

پاکستان کے اندر پچھلے کچھ دنوں سے ہیلمٹ کی پابندی اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانے پر عوام کیطرف سے حیرت انگیز رد عمل، اور آسیہ مسیح رہائ کیس پر روڈ بلاک اور توڑ پھوڑ اس چیز کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ریاست نے نوجوان نسل کو ان صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ نہیں بنایا جس کی ضرورت تھی،
اور اسکا خمیازہ خدانخواستہ اس ملک کو بھگتنا پڑ سکتا ہے.

اب وقت ہے کہ آنے والی نسل کو بنیادی قوانین زندگی سے روشناس کروانے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے باور کروانے کے لئیے نصاب تعلیم میں اسلامک لاء اور بنیادی لاء(روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے قوانین بشمول ٹریفک، قانونی اخلاقیات Legal Ethics وغیرہ) کے نام سے مضامین شامل کئیے جائیں، اور خصوصی طور پر الگ سے ہفتہ وار لیکچرز کا اہتمام کیا جائے تا کہ آنے والی نسل کو پتا چلے کہ پر امن اورباعزت زندگی گزارنے کے لیئے ریاستی قوانین کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا نا گزیر ہے.

حکومت کی غفلت اور تاخیر سے خدانخواستہ نئی نسل کچھ مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو کر ملک و ملت کے لئیے کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جسکو دیکھا جا چکا ہے،

کیونکہ نوجوان نسل ریاست کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے لہذا انہیں بنیادی اسلامی قوانین پڑھانے کے لئیے اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے.

اگر حکومت سنجیدگی سے نوجوانوں کی تربیت کے بارے میں سوچتی ہے تو کم از کم اگلے کچھ سالوں بعد ہمیں اخلاقیات اور قوانین کی پاسداری کے لئیے مغربی ممالک کی مثالیں نہیں دینا پڑیں گی اور سوسائٹی میں خوشگوار تبدیلی آئے گی جو کہ اصل تبدیلی ہو گی.
جب سوسائٹی با اخلاق اور قوانین کی پاسداری کرنے والی نسل کو جنم دے گی تو ملک خود بخود ١ ایسے راستے پر چل پڑے گا جس کی ہر شاخ کا تعلق ترقی، خوشحالی اور امن سے ہو گا انشاءاللہ.

از قلم.
شاہد امیر لدھیانہ