مظاہرین کے خلاف حکومتی رٹ بحال کروانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔رینجرز اور پنجاب رجمنٹ اپنے اپنے اہداف کی جانب روانہ، مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے بڑے شہروں میں حالات بدستور کشیدہ، تاحال بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی، مکمل تفصیلات جانیے سلطان نیوز کی اس رپورٹ میں

0
93

مظاہرین کے خلاف حکومتی رٹ بحال کروانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔رینجرز اور پنجاب رجمنٹ اپنے اپنے اہداف کی جانب روانہ ہو گئیں۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان بھی بنچ کا حصہ تھے۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو الزامات سے بری کیا اور رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
جس کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کئیے جارہے ہیں ۔ملک کے بڑے شہروں میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور تاحال بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ۔جس کے وزیر اعظم عمران خان کو اس حساس معاملے پر قوم سے خطاب کرنا پڑا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پرجوزبان استعمال ہوئی اس پر آپ سے بات کرنے پرمجبورہوں۔
جوججزنے فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق دیا ہے۔

ہم نے پہلی بار او آئی سی میں معاملہ اٹھایا اور یو این میں معاملہ اٹھایا۔ کسی کاایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتاجب تک نبی کریم ﷺسےعشق نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم کی شان میں گستاخی آزادی رائے نہیں۔ ہم نبی کریم ﷺکی شان میں کسی قسم کی گستاخی نہیں دیکھ سکتے۔ تاہم آسیہ بی بی کیس پر ججز نے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔
پاکستان کا آئین و قانون قرآن کے تابع ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پرچھوٹے سے طبقے نے ردعمل دیا ہے۔ مدینہ کی ریاست کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں کوئی قانون اسلام کے منافی نہیں ہوسکتا۔ بعض لوگ فوج اور جرنیلوں کوکہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کیخلاف بغاوت کریں۔ فیصلے کے بعد بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کےججرواجب القتل ہیں۔
جوزبان استعمال کی گئی کون سی حکومت چل سکتی ہے۔ اس معاملے میں حکومت کا کیا قصورہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے جو فیصلہ دیا وہ آئین کے مطابق ہے۔ یہ لوگ کوئی اسلام کی خدمت نہیں کررہے،یہ ملک دشمن عناصراس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ اپنی سیاست اور ووٹ بینک کے چکر میں ملک کے خلاف کام نہ کریں۔ ملک دشمن عناصرایسی باتیں کرتے ہیں کہ ججوں کوقتل کردوفوج میں بغاوت ہوجائے۔
ریاست کومجبور نہ کریں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے، ریاست لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کرے گی، ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے، امن و امان کی صورتحال کسی صورت خراب نہیں ہونے دیں گے۔اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو امن و امان برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے کہ مظاہرین کو فوری طور پر منتشر کیا جائے۔
اس پر ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے پر امن طریقے سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ہٹ دھرمی کی صورت میں آپریشن کا آپشن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لاہور میں مظاہرین کے خلاف گرینڈ آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ۔رینجرز اور پنجاب رجمنٹ کو انکے اہداف بھی دے دئیے گئے جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہداف کی جانب حرکت شروع کر دی ہے۔لاہور میں شروع ہونے والا آپریشن ٹھوکر نیاز بیگ سے لے کر اسمبلی ہال تک کیا جائے گا جبکہ میڈیا کو آپریشن والے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔