کیا یہی ہے نیا پاکستان، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پرمہنگائی کا بم گرانے کی تیاری کرلی، مکمل تفصیلات جاری جانیے اس لنک میں

0
42

حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پرمہنگائی کا بم گرانے کی تیاری کرلی،اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 13روپے اضافے کی سفارش کردی ہے، اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو بھجوا دی ہے، وزرات پٹرولیم اوگرا کی سفارشات کا جائزہ لیکر نئی قیمتوں کا تعین کرے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا نے وزرات پٹرولیم کو تیل کی قیمتوں کی اضافے کی سمری بھجوا د ی ہے۔ اوگرا کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 13روپے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ اوگرا کی سمری کے مطابق یکم نومبر سے پٹرول کی قیمت میں9 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کردی۔ اوگرا کی سمری میں حکومت سے مٹی کے تیل کی قیمت 6 روپے 47 پیسے ، ڈیزل کی قیمتوں میں13روپے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں6 روپے 48 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان بتایا گیا ہے۔
اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظوری کیلئے پٹرولیم ڈویژن کو بھجوا دی ہے۔ واضح رہے حکومت کی جانب سے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا یقین دلایا گیا تھا۔ جبکہ حکومت نے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا تھا۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے بجلی کی قیمتوں میں 300 سے 700 یونٹ کے درمیان 10فیصد اضافہ کیا گیا ،جبکہ 700سے اوپریونٹ استعمال کرنے والوں کیلئے بجلی کی قیمتوں میں 15فیصد اضافہ کیا گیا ہے،چھوٹے کاروباری95 فیصد صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں نیپرا بجلی کی قیمتوں کا تعین کرتا ہے۔ نیپرا نے 3روپے 82پیسے بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھانے کی تجویز دی ہے۔ جبکہ ہم نے بجلی کی قیمتوں میں 3روپے 82پیسے کی بجائے 1روپے 27پیسے اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب نیب نے پاکستان پٹرولیم کمپنی میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے معاملے پر تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جس میں اربوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے۔
نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق برطانوی کمپنی ایم این ڈی کے اثاثوں کی مالیت 6 کروڑ ڈالر تھی لیکن پی پی ایل نے خود ساختہ رپورٹ پر یہی اثاثے 18 کروڑ ڈالر میں خریدے۔ مجرمانہ غفلت کے ذمہ دران اور ملزمان کے خلاف انکوائری مکمل کر لی ہے۔ انکوائری میں چیک ریپبلک کے شہری کی بطور بینیفشری نشاندہی ہوئی ہے۔ نیب رپورٹ میں پی ایس او اور بائیکو آئل کمپنی کے مابین خرید و فروخت کے معاہدے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس معاہدے میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا اور بائیکو کمپنی کو مالی فائدہ پہنچایا گیا۔ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ریفرنس دائر کیا جائے گا۔