اربعین حسینی اور عراقی قوم تحریر نوجوان لکھاری ملک اسد عباس اعوان

0
36

اربعین اور شیعه

شیعی تہذیب میں اربعین سے مراد امام حسین علیه السلام کی شہادت کے بعد چالیسواں دن یعنی صفرالمظفر کی ۲۰ تاریخ ہے چہلم کے موقع پر لوگوں کا امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا رجحان قدیم زمانے سے مومنین میں رائج ہے ۔چہلم یا عاشور صرف سال کے دنوں میں سے ایک دن نہیں ،بلکہ یہ لاکھوں لوگوں کی نگاہوں میں امام حسین علیه السلام کے قیام کی تصویر کھینچ کر رکھ دیتا ہے ۔

بعض روایات کے مطابق۲۰ صفر ۶۱ ہجری امام حسین علیه السلام کا چہلم منانے کیلئے امام کے سب سے پہلے زائر جابربن عبداللہ انصاری جو رسول خدا کے صحابی ہیں مدینہ منوّرہ سے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کیلئے کربلا آئے ہیں ، جابر فرات کے پانی سے غسل کرنے کے بعدغم و اندوہ کی حالت میں امام حسین علیه السلام کی زیارت کیلئے روانہ ہوئے ۔شیخ طوسی کتاب مصباح المتہجد میں لکھتے ہیں :صفر کا بیسواں دن وہ دن ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری جو کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں مدینہ سے امام کی زیارت کیلئے کربلا آئے آپ امام کی قبر کے پہلے زائر ہیں ،اس دن میں امام حسین علیه السلام کی زیارت مستحب ہے [14] ۔مرحوم شیخ طوسی کی عبارات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جابر امام حسین علیه السلام کی زیارت کے قصد ہی سےمدینہ سے نکلے اور ۲۰ صفر کو کربلا پہنچے ہیں لیکن یہ کہ مدینہ والے کس طرح اور کیسے امام کی شہادت سے مطلع ہوئے کہ جابر نے اپنے آپ کو کربلا پہنچایا؟ تاریخی شواھد کے مطابق ابن زیاد نے اہلبیت کے کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی عبدالملک بن ابی الحارث سلمی کو حجاز روانہ کر دیا تھا تا کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے حاکم مدینہ ، امام حسین علیه السلام اور انکے ساتھیوں کی شہادت سے با خبر ہو جائے۔اھلبیت کے کوفہ پہنچنے کےچند دن بعدہی شہر کے لوگ من جملہ مدینہ والے فرزند پیغمبر کی شہادت سے آگاہ ہو گئےتھے۔ اس صورت میں ممکن ہےکہ جابر اس بات سے با خبر ہو گئے ہوں اور اپنے آپ کو کربلا پہنچایا ہو ۔جس وقت آپ مدینہ سے کربلا کیلئے روانہ ہوئے ہیں ضعیفی اور ناتوانی نے انکو پریشان کر رکھا تھا اور بعض روایات کے مطابق آپ نا بینا بھی تھے ۔ لیکن جابر نےلوگوں کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے کیلئے اس کام کو انجام دیا ۔اس زیارت میں جابر کے ہمراہ عطیّہ بھی تھے جو کہ اسلام کی بڑی شخصیتوں ،اور مفسر قرآن کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے ۔ اس دن میں زیارت کے سلسلہ میں نزدیک یا دور سے بہت ساری روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔

نجف سے کربلا کا پیدل سفر

قدیم الایام سے عراقی شیعوں میں خصوصاً علما ئ نجف میں یہ رواج تھا کے وہ اربعین امام حسین ع کے چہلم کے موقع پر نجف سے کئی دن کا سفر کر کے کربلا پیادہ (پیدل ) جایا کرتے تھے۔

گروہی طور پر نجف سے کربلا پیدل جانے کا یہ سلسلہ مرجع عالی قدر شیخ انصاری کے زمانے سے شروع ہوا لیکن بعد میں اس رسم کو فقرا کے طبقہ سے منسوب سمجھا جانے لگا لیکن بعد میں عالم بزرگوار محدث نوری نے اس رسم کو دوبارہ زندہ کیا ۔[15]

اسی طرح لوگوں میں ان زائرین کی خدمت کا بےمثال جذبہ بھی صدیوں سے جاری و ساری ہے جس نے تمام دنیا کو ورتہ حیرت میں ڈالا ہوا ہے اور ان خدمت گزاروں میں شیعہ علما کی موجودگی کسی سے پوشیدہ نہیں.یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے مومنین نے اس سنت حسنہ کو قایم رکھا ۔ صدام کے زمانے میں اس کے شیعوں پر ناروا مظالم کی وجہ سے اس کی رونق میں کمی آگئی لیکن اس زمانے میں بھی عرآق کے مومنین نے اس رسم کو جاری رکھا ۔ صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد لوگوں کا اربعین حسینی پر جوش اور ولولہ کے ساتھ جانا آج کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ۔

آج پورے وثوق کے ساتھہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں ہونے والے اجتماعات چاہے وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی ،ان میں سب بڑا اجتماع اسی اربعین حسینی کے موقع پر ہوتا ہے جس میں ساری دنیا سے عشّاق امام حسین ع اپنے امام کی زیارت کے لیے عراق تشریف لاتے ہیں ۔ان زواروں میں سے ایک چشم گیر تعداد نجف سے کربلا پیدل سفر کرتے ہیں ۔اس سفر کے بارے میں بھی ، یہ ادعا غلط نہیں کہ یہ مشی (پیدل چلنا ، پیادہ روی ) معنوی ترین سفر دنیا ہے ۔جو لوگ اس سفر کی سعادت حاصل کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس مشی میں مرد ،عورتیں ،بوڑھے ، بچے ،مریض ،معذور ،امیر غریب ۔۔۔۔ ہر قسم کے لوگ دیوانہ وار عشق و محبت سے لبریز ماتم و گریہ کرتے ہوے کربلا کی طرف ایک بحر بیکراں کی مانند بڑھ رہے ہوتے ہیں ۔امام ع کا خاص لطف و کرم اپنے ان زائرین پر ایک ابر سایہ دار کی طرح ہمراہ ہوتا جسے ہر با شعور فرد بڑی اسانی سے درک کر سکتا ہے وہاں ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح زائرین کی کوی خدمت کر کے اپنے کو زائرین امام مظلوم ع کے خدمتگزاوں میں شامل کر لے ۔

عراقیوں کی پر خلوص مہمان نوازی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ، نجف سے کربلا کے راستے میں مختف سبیلیں اور کیمپ (موکب )مہمانوں کی خدمت کے لیے ۲۴ گھنٹے کارفرما ہوتے ہیں ۔مشی کرنے والے لاکھوں زائرین کے کھانے پینے، سونے نیز انکے راستے میں پیش آنے والی ہر چھوٹی بڑی سہولت مہیا کرنے کے لیے سیکڑوں خاندان اور انجمنیں صبح شام مصروف عمل رہتے ہیں ۔اول تو دنیا کے لیے اس حقیقت کو باور کرنا مشکل ہوتا ہے اور اوپر سے جب انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام بیان کردہ چیزیں اور سہولیات بغیر کسی معاوضے کے ہیں تو ان کی حالت قابل دید ہوتی ہے۔