بریکنگ نیوز، سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی، مکمل تفصیلات جانیے اس لنک میں

0
81

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے بھارتی مواد دکھانے سے متعلق ہائیکورٹ کا حکم معطل کر دیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئے کہ بند کریں یہ بھارتی مواد۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ہمارے ڈیم بند کروا رہا ہے ہم ان کے چینلز بھی بند نہ کریں؟ جس کے بعد چیف جسٹس نے بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے لیو کمیونیکیشن کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بھارتی فلمیں دکھانے پر پابندی نہیں لیکن بھارتی ڈرامے دکھانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
دوسری جانب پیمرا کے وکیل نے جواب داخل کرواتے ہوئے کہاکہ بھارت میں پاکستانی فلمیں اور ڈرامے دکھانے پر پابندی ہے اسی لیے بھارتی ڈرامے اور دیگر مواد دکھانے پر پاکستان میں پابندی عائدکی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارتی فلموں اور ڈراموں میں پاکستان مخالف، غیر اخلاقی مواد موجود ہے تواسے سنسر کیا جا سکتا ہے۔

پابندی کے حوالے سے وفاقی حکومت کو کوئی اعترا ض نہیں تو پیمرا الگ ڈگر پرکیوں چل رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی فلموں اور ڈراموں کی بھارت میں نشریات پر پابندی کا کوئی نوٹیفکیشن موجود ہے تو عدالت کو آگاہ کیا جائے، اگر بھارتی فلموں سے ہماری ثقافت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں تو پیمرا نے اپنے تحریری جواب میں اس کا تذکرہ کیوں نہیں کیا۔
پیمرا کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے، دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ہم کب تک بلاجواز پابندیاں عائد کرتے رہیں گے۔ عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے پاکستان میں بھارتی فلمیں، ڈرامے اور آڈیو وڈیو مواد دکھانے کی اجازت دے دی اور چینلز پر بھارتی ڈرامے دکھانے پر پابندی کے حوالے سے پیمراکا جاری کردہ سرکلرکالعدم قرار دے دیا تاہم اب سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بھارتی مواد پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔