این آراو کی کہانی۔۔۔۔ سلطان نیوز پر۔۔۔ خوبصورت کالم

0
20

این آراو کی کہانی۔۔۔۔ سلطان نیوز پر۔۔۔

خوبصورت کالم

بہت سے لوگوں نے پوچھا ہے کہ عمران خان کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا؟ اس کا مطلب جاننے کیلئے آپ کو پچھلے دس سال میں زرداری اور نوازشریف دور میں جانا ہوگا۔

ویسے تو زرداری اور شریف برادران ایک دوسرے پر کرپشن سے لے کر غداری جیسے سنگین الزامات لگاتے آئے ہیں لیکن مشرف دور میں ان دونوں جماعتوں کو یہ عقل آگئی کہ آپس میں لڑتے رہے تو ایک کی چونچ اور دوسرے کی دُم گم ہوجائے گی اور عوام میں امیج بھی خراب ہوجائے گا، چنانچہ زرداری اور شریف خاندان کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہوگیا جس کے تحت نہ تو زرداری نے اپنے دور میں شریف خاندان کے خلاف کوئی مقدمہ قائم کیا اور نہ ہی شریف برادران نے زرداری کے خلاف۔ نیا مقدمہ تو دور، پہلے سے موجود مقدمات بھی عدم پیروی اور نیب پر دباؤ ڈال کر بند کروا دیئے گئے۔

یہی وجہ تھی کہ 2013 کے الیکشن میں شہبازشریف ہر جلسے میں زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت برامد کرنے کا دعوی کرتا تھا لیکن اپنے پانچ سالہ دور میں ایک بھی کرپشن کا مقدمہ قائم نہیں کیا، اور پہلے سے قائم مقدمات کو داخل دفتر کردیا گیا۔

زرداری اور شریف خاندان کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اسے آپ این آر او کی ہی ایک شکل کہہ سکتے ہیں جس میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت ایک دوسرے کی مدد کی گئی۔

جب سے عمران خان حکومت میں آیا ہے، شریف برادران اور زرداری کی یہی کوشش ہے کہ کسی طرح عمران خان کو دباؤ میں لا کر ایک ایسا ہی خاموش معاہدہ کرلیا جائے۔

یہ بات تو دونوں اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان کو خریدنا ناممکن ہے، چنانچہ ان کی بارگیننگ ان شرائط پر ہے کہ اگر ہمارے خلاف مقدمات قائم نہ کئے جائیں تو ہم اگلے پانچ سال خاموشی سے اپوزیشن میں گزار لیں گے اور اس دوران ہر سال ایک بلین ڈالر کی رقم بھی بیرون ملک سے پاکستان لے آئیں گے۔

یہ شرائط رکھتے ہوئے زرداری اور شریف مافیا نے میڈیا کے ذریعے مہنگائی کا شور مچانا شروع کردیا تاکہ عمران خان پر معاشی حوالے سے دباؤ پڑ سکے۔ ایک دن میں ڈالر کی قیمت میں تیرہ روپے تک اضافہ بھی انہی حرامخوروں کی سازش کی وجہ سے ہوا، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عمران خان یہ دباؤ برداشت کرگیا ہے تو پھر زرداری نے گرینڈ اپوزیشن، تحریک عدم اعتماد اور اے پی سی کی دھمکی دے دی اور اس کے ساتھ ساتھ اندر خانے عمران خان کو ایک مرتبہ پھر این آر او کا پیغام بھی بھجوا دیا۔

اللہ کی مہربانی سے خان کو سعودی عرب کی طرف سے مالی مدد مل چکی، چنانچہ پہلی فرصت میں آج خان نے قوم سے خطاب کے ذریعے زرداری اور شریف برادران کو پیغام بھجوا دیا کہ این آر او نہیں ملے گا ۔ ۔ ۔ عمران خان نے اسی لئے وزارت داخلہ اپنے پاس ہی رکھی تھی تاکہ ان دونوں کے حوالے سے اہم فیصلے اس کی مرضی کے بغیر نہ ہوسکیں۔

جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے، توں توں زرداری کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے، میری اطلاعات کے مطابق نومبر کے پہلے ہفتے کے آس پاس زرداری کو گرفتار کر لیا جائے گا لیکن اس سے قبل پکے ثبوت اکٹھے ہورہے ہیں، بہت سے ہوچکے، تھوڑے بہت باقی ہیں۔

وزارت داخلہ میں رحمان ملک کے کچھ ٹاؤٹ موجود ہیں جو زرداری کو پل پل کی خبریں پہنچا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اگلے چند دنوں میں اگر زرداری رات کی تاریکی میں دبئی فرار ہوگیا تو سمجھ جائیں کہ وہ اب دوبارہ واپس نہیں آئے گا ۔ ۔ ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے خلاف کاروائی نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ کم و بیش دو سو ارب روپیہ واپس لانے کا ٹارگٹ سیٹ ہوچکا، اور بندے مارک کر لئے گئے ہیں ۔ ۔ ۔

نوازشریف اپنے انجام کو پہنچ چکا، زرداری کا بھی آخری وقت قریب آن پہنچا۔

یہ ہے وہ این آر او کی کہانی جو آج خان صاحب نے اشاروں کنایوں سے زرداری اور شریف برادران کو سنا دی!!!