وقت سکرات کی کیفیت۔۔۔۔. . ۔۔روح کے قبض ہونے اور موت آنے کے حالات۔۔۔چشم کشا تحریر. ۔۔۔سلطان نیوزپر

0
24

جب روح نکلتی ہے توانسان کامنہ کھل جاتاہے ہونٹ کسی بھی قیمت پرآپس میں چپکے ہوہے رہ نہیں سکتے روح پیرکوکھینچتی ہوہی اوپرکی طرف آتی ہے جب پھپڑوں اوردل تک روح کھینچ لی جاتی ہے اور انسان سانس ایک ہی طرف یعنی باہر ہی چلنے لگتی ہے یہ وہ وقت ہوتاہےجب چند لمحوں میں انسان شیطان اورفرشتوں کودنیامیں اپنے سامنے دیکھتاہےایک طرف ابلیس اس کےکان میں کچھ مشورے دیتاہے تودوسری طرف اسکی زبان اسکےعمل کےمطابق کچھ الفاظ ادا کرنا چاہتی ہے اگر انسان نیک ہوتواسکادماغ اسکی زبان کو کلمہ شہادت کی ہدایت دیتاہےاگرانسان کافرہوبددین مشرک یادنیاپرست ہوتاہے تو اسکا دماغ کنفیوژن اورایک عجیب ھیبت کاشکارہوکرشیطانکےمشورے کی پیروی کرتا ہے اور بہت ہی مشکل سے کچھالفاظ زبان سے اداکرنیکی بھرپورکوشش کرتاہےیہ سب اتنی تیزی ہوتاہے کہ دماغ کودنیاکی فضول باتوں کوسوچنے کاموقع ہی نہیں ملتاانسان کی روح نکلتے ہوئے ایک زبردست تکلیف زھن محسوس کرتاہے لیکن تڑپ نہیں پاتاکیونکہ دماغ کوچھوڑکرباقی جسمکی روح اسکے حلق میں اکٹھی ہوجاتی ہےاورجسم ایک گوشت کےبےجان لوتھڑے کی طرح پڑاہواہوتاہےجس میں کوہی حرکت کی گنجاہش نہیں رھتیآخرمیں دماغ کی روح بھی کھینچ لی جاتیہے آنکھیں روح کولےجاتےہوے دیکھتی ہیں اسلیے کہ آنکھوں کی پتلیاں اوپرچڑھ جاتی ہیں یاجس سمت فرشتہ روح قبض کرکےجاتاہے اس سمت کی طرف ہوتی ہیںاسکےبعدانسان کی زندگی کاسفرشروع ہوتاہےجس میں روح تکلیفوں کےتہہ خانوں سےلےکر آرام کےمحلات کی آہٹ محسوس کرنےلگتی ہےجیساکہ اس سےوعدہ کیا گیا ہےجودنیاسے گیاواپس کبھی لوٹانہیںصرف اس لیےکہ کیونکہ اسکی روح عالم اے برزخ کاانتظارکررھی ہوتی ہےجس میں اسکاٹھکانادےدیاجاےگااس دنیا میں محسوس ہونے والی طویل مدت ان روحوں کے لیے چند سیکنڈز سےزیادہ نہیں ہوگی یہاں تک کہ اگرکوہی آج سے کروڑوں سال پہلے ہی کیوں نہ مرچکاہومومن کی. روح اس طرح کھینچ لی جاتی ہے جیسے آٹےسےبال نکالاجاتاہےگناہ گار کی روح خارداردرخت پرپڑے سوتی کپڑے کی طرف کھینچی جاتی ہےاللہ سبحانه وتعالی ھم سبکو موت کے وقت کلمہ نصیب فرماکرآسانی کیساتھ روح قبض فرمااور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کادیدارنصیب فرما۔
آمین یارب العالمین

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here