طاغوتی قوتیں اور امت مسلمہ تحریر عمر فاروق میو

0
66

آج طاغوتی قوتیں امت مسلمہ کو دستر خوان پر پڑے ہوئے کھانے کی طرح ہڑپ کرنا آسان سمجھتی ہیں. آج کفر کے ہاتھ میں سٹار وار پروگرام ہے جبکہ ہمارے ہاتھ میں قراردادیں ہیں. آج کفر کے ہاتھ میں پیٹریٹ میزائل ہیں جبکہ ہمارے ہاتھ میں اپیلیں ہیں. سوچنے کی بات ہے کہ ہم قعر مذلت میں کیوں جا گرے. ہماری دینی غیرت و حمیت کہاں گئی؟ کیا ہم نے مسلمان ماؤں کا دودھ نہیں پیا؟ کاش کہ ہم عقل کے ناخن لیتے اور اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر دیکھتے کہ کفر کس طرح دندناتا پھرتا ہے. ایک ہم ہیں کہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں.

محترم جماعت ! وقت ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے کہ مسلمانو ! جاگو، جاگو ، جاگو…. جو آج خود نہیں جاگے گا تو کفر اسے پاؤں کی ٹھوکروں سے پامال کرے گا. دشمن کے قدم ہماری دہلیز تک پہنچ چکے ہوں گے. پھر ہمارے خون کو پانی کی طرح بہا کر چنگیز خان کی یادیں تازہ کی جائیں گی. دشمن کے طیارے ہماری فضاؤں میں تیرتے اور چنگھاڑتے ہوں گے. توپوں کی گھن گرج ہمارے دماغوں کو ماؤف کرے گی. ہماری لاشوں کو ٹینکوں کے نیچے کچل دیا جائے گا. عورتوں کے سروں سے دوپٹے چھین لیے جائیں گے. ماں باپ کے سامنے پاکدامن بیٹیوں کی عصمتیں پامال کر دی جائیں گی.زندہ بچنے والوں کے گلے میں ذلت و رسوائی کے طوق ڈال دیے جائیں گے. پاؤں میں غلامی کی زنجیریں ڈال دی جائیں گی. افسوس صد افسوس ہمارے لیے چلو میں پانی لے کر ڈوب مرنے کا وہ مقام ہوگا. زمین کے اندر کا حصّہ زمین کے اوپر کے حصے سے بہتر ہوگا. کاش کہ ہم وقت کی پکار سنتے اور چین کی بانسری بجانے کی بجائے اسلام کی نشات ثانیہ کے لیے اپنے تن من دھن کی بازی لگا دیتے.

محترم جماعت ! آج دنیا کے حالات تیزی سے اپنا رخ بدل رہے ہیں. ایک طرف مشرق میں جاپان کوریا سے لے کر سنگاپور تک کے ممالک آپس میں تجارتی مراسم بڑھا رہے ہیں اور عظیم مشرق کا خواب دیکھ رہے ہیں.دوسری طرف مغرب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اس قدر منسلک ہو گئے ہیں کہ مختلف ممالک ایک شہر کے مختلف محلوں کی مانند بن گئے ہیں، یورو اور ڈالر کی کرنسی اپنا کر عظیم مغرب کا خواب دیکھ رہے ہیں.

اے مسلمان نوجوان ! اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے. اٹھ کھڑا ہو اور اسلام کا پرچم ہاتھ میں لے کر چار دانگ عالم کو بتا دے کہ

Neither East, Nor West, Islam is the best.

نہ ہی مشرق، نہ ہی مغرب، اسلام ہے سب سے بہتر

محترم جماعت! یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب الله تعالیٰ چاہتا ہے تو چڑیوں سے باز مروا دیتا ہے. قلیل کو کثیر پر اور کمزور کو قوی پر غلبہ عطا کر دیتا ہے. ہم اگر قرآن کو سینوں سے لگائیں اور پھر اپنے قدم اٹھائیں تو کامیابی ہمارے قدم چومے گی. وقت کا تقاضا ہے کہ

قوت عشق سے ہر پست کو بلا کر دے

دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے

ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ روس دنیا کی سپر پاور کہلاتا تھا. مگر الله تعالیٰ کی حقیقی سپر پاور نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے. آج دیکھئے کہ روس سپر پاور کی بجائے سفر پاور بن چکا ہے. شیشے کا برتن ٹوٹ جائے تو بھی چھناکے کی آواز آتی ہے اتنا بڑا ملک ٹوٹا مگر ذرا سی بھی آواز نہ آئی. یقین کریں کہ اگر ساری دنیا کی طاقتیں بھی اکٹھی ہو جاتیں تو روس کے اتنے ٹکڑے نہ کر سکتیں جتنے ٹکڑے روس نے اپنے ہاتھوں سے کر لیے. کیا یہ معجزہ ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا؟ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد و یگانگت کی فضا پیدا کریں.

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

محترم جماعت ! اگر ہم مسلمان متحد ہو گئے تو طاغوتی قوتوں پر یہ راز طشت ازبام ہو جائے گا کہ مسلمان تو لوہے کے چنے ہیں انہیں چبانا کوئی آسان کام نہیں ہے.

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here