عطائیت اور صحافت تحریر سئنیر صحافی حبیب منظر مہدی احمدپورسیال

0
88

عطائیت اور صحافت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محترم کہاں جیو کہاں حامد میر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صحافتی قواعد و ضوابط تو ایک طرف میرے شہر کے اکثر صحافیوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ہسپتال میں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے نا کہ شہریوں کو حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خبر مکمل اس وقت ہوتی ہے جب تصویر کے دونوں رخ دکھائے جائیں ناکہ یکطرفہ موبائل ویڈیو فیس بک پر چلا کر موئقف سنے بغیر دوسرے فریق کی پگڑی اچھالی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب مظلوم کی آواز بننے کا دعویٰ کرو تو پھر مردوں کی طرح اس پر پورا اترو ناکہ عطائی کلینک پر عطائی کے ہاتھوں زچہ بچہ دو قیمتی جانوں کے ضیاع پر مظلوم کی آواز بننے کی بجائے ظالم کے ظلم اور قاتل کے جرم پر پردہ ڈالنے کہ مہم چلائی جائے اور اپنی جھوٹی تحریر و تقریر کے ذریعے محمکمہ ہیتھ کو بلیک میل ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ہم نوالہ ہم پیالہ عطائی محمد عمران چشتی کا دفاع کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جھوٹپر مبنی فیس بک عطائی ٹیم ہار گئی اور سچ کی طاقت جیت گئی اوربالآخر عطائی کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کسی نام نہاد نے اس مقدمہ پر لائیو کوریج دی؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں جناب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔محکمہ ہیلتھ نے ایم بی بی ایس کی ڈگری چیک کرنے کے لیے طلب کی مگر ہوتی تو برآمد ہوتی۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کی ڈگری نہ ہونے پر محمد عمران چشتی کو عطائی قرار دیتے ہوئےاس کے خلاف قانونی کاروائی کے لیے رپورٹ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو ارسال کی گئی مگر خود ساختہ نیوز پر بڑھ چڑھ کر بولنے والوں نے آج تک احمد پور سیال کے عوام کو لائیو کیوں نہیں بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے بڑے بڑے سائن بورڈوں پر، کیبل ایڈورٹائزمنٹ میں اپنے آپ کو ایم بی بی ایس کوالیفائیٖ ڈاکٹڑ لکھنے والا شخص ڈاکٹر نہیں بلکہ دھوکے باز فراڈیہ عطائی نکلا کیونکہ اسکے پاس ایمم بی بی ایس کی ڈگری نہیں اور اس نے جھوٹی اشتہار بازی کے ذریعے شہریوں کو چکر دے کر زندگی کی بجائے موت تقسیم کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ذمہ دار صحافی کبھی اپنی طرف سے کسی کو فرعون بدمعاش طالم کی سند نہیں دے گا ذمہ دار جرنلسٹ جو دیکھے گا سنے گا تصویر کے دونوں رخ جانچ کر عوام کی معلومات کے لیے واقعات کو دیانت داری سے رپورٹ کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عوام کی راہنمائی کے لیے عرض ہے کہ تیز نیوز اسکا لوگو غیر قانونی ہے یہ وزارت اطلاعات، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور پیمرا سمیت کسی سرکاری ادارے سے منظور شدہ نہ ہے اسکی تحریر و تقریر خود اس کے لیے کسی بھی وقت وبال جان بن سکتی ہے کیونکہ غیر مستند خود ساختہ میڈیا وزارت اطلاعات، انفارمیشن ڈپارٹمنٹ ، پیمرا آرڈینینس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اورجعلی ہ آلہ/ لوگو کو ہاتھ میں لیکر شرفاء کی پگڑیاں اچھالنا، لوگوں کو بلیک میل کرنا ، معاشرے میں ہراسمنٹ پھیلانا ، سرکاری اداروں کے خلاف عوام کو مشتعل کرنا ، معاشرے میں جھوٹ پر مبنی معلومات پھیلانے کا سبب بننا جیسے نا پسندیدہ اقدامات جھوٹے الزامات پر سائبر کرائم ایکٹ بھی لاگو ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اختصار سے کام لیتے ہوئے آخر میں اتنا کہوں گا کہ جس طرح عطائی محمد عمران چشتی کے پاس مبینہ ایم بی بی ایس کی ڈگری نہیں اسی طرح علی امجد اور اسکی ٹیم حجاز علی بٹ وغیرہ وغیرہ کے پاس بھی تیز نیوز کا لائسنس / منظوری کا کو ئی سرٹیفیکیٹ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ بغیر ڈگری بغیر سند بغیر لائسنس بغیر سرٹیفیکیٹ کے کوئی بھی دعویدار شخص عطائی اور اسکا ادارہ غیر قانونی ہے ۔ چاہے وہ محمد عمران ہو یا کوئی اور؟؟؟ ایک اچھا صحافی حقیقت پسند ہوتا ہے۔ وہ حقیقت سے کبھی آنکھیں نہیں چراتا ۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here