مورخ لکھے گا…..تعلیمی پالیسیوں پر تنقیدی کالم..سلطان نیوز پر

0
64

*مؤرخ لکھے گا کہ ۔۔۔*
* مؤرخ لکھے گا کہ کسی بھی علاقے میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کا تعین بھی گورنمنٹ خود طے کرتی تھی کہ اس علاقے میں اتنے بچے پیدا ہونے ہیں اگر کم پیدا ہوئے تو سزا سکول کے اساتذہ کو ملتی تھی۔

▪مؤرخ لکھے گا کہ سکولوں کو اپنی ضروریات کا سامان لینے کے لئے گورنمنٹ فنڈ دیتی تھی اور پھر ایسا لائحہ عمل بناتی تھی کے وہ ٹیکس کی صورت میں واپس وصول کر لیتی تھی ۔

▪مؤرخ لکھے گا کہ ایک قوم ایسی تھی جو صفر نمبر والے کو بھی پاس کرتی تھی اور پہلی پوزیشن والے کو بھی پاس کرتی تھی ۔

▪مؤرخ لکھے گا کہ اس قوم میں امیروں کے بچے 3 سال بعد اول جماعت میں ترقی پاتے تھے اور غریبوں کے بچے محض ایک سال سے بھی قلیل عرصے میں اول جماعت میں ترقی پاتے تھے۔

▪مؤرخ لکھے گا کہ امیروں کے بچے سکولوں سے نام خارج کرانے کا حق رکھتے تھے، مگر غریب کے بچوں پر تعلیم مکمل کرنا لازم تھا۔ بیشک وہ نام داخل کرانے کے بعد پوری زندگی سکول نہ آیا ہو ۔

▪مؤرخ لکھے گا کہ 4 سال بین الاقوامی زبان میں تدریس کرنے کے بعد پانچویں سال پرچہ قومی زبان میں لیا جاتا تھا۔

▪مؤرخ لکھے گا کہ ایم اے ۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کو میٹرک اور مڈل پاس آفیسرز چیک کرنے آتے تھے اور ان کی رپورٹ حتمی مانی جاتی تھی ۔

☚ مؤرخ کی یہ تمام باتیں جب یونان ، یورپ اور مغربی ممالک کے فلسفیوں اور ماہرین تک پہنچیں گی تو وہ اس قوم پر رشک کریں گے اور اس قوم کی علمی اور عقلی صلاحیتوں پر اپنا سر دھنتے رہ جائیں گے ۔۔۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here