گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس……تصویر کا دوسرا رخ…..وقاص خان کا موقف سلطان نیوز پر، جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں

0
33

*گرمیوں کی چھٹیاں اور فیس*
تحریر: *وقاص اے خان*
آج کل یہ موضوع بہت گرم ہے. ہر کوئی کورٹ میں جا رہا ہے کہ چھٹیوں کی فیس ظلم ہے اور پرائیویٹ سکولز کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ چھٹیوں کی فیس نہ لیں. بادی النظر میں یہ بات درست نظر آتی ہے کہ جب پڑھانا ہی نہیں تو فیس کس بات کی؟ لیکن بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے. ذرا چند مثالیں ملاحظہ ہوں.
1. ایجوکیشن ایک سروس سیکٹر ہے. بالکل اسی طرح جیسے وکالت اور دوسرے پیشے ہیں جن میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں کی جاتی بلکہ خدمات کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے. وکلا کیس کی فیس لیتے ہیں، میں ایک وکیل بھی ہوں تو جب آپ کسی وکیل کی خدمات حاصل کرتے ہیں تو وہ آپ کو بتاتا ہے کہ میں اس کیس کو لڑنے کا 20 ہزار لوں گا یا ایک لاکھ لوں گا. آپ کی مرضی ہو تو آپ وکیل صاحب سے ڈیل کر کے فیس میں کمی بیشی کروا کر یا مناسب ہو تو بغیر بح‍ث کے ان کو وکالت نامہ دستخط کر کے دے دیتے ہیں اور اگر آپ مطمئن نہ ہوں تو کوئی دوسرا وکیل کر لیتے ہیں. کیس کی سماعت کے دوران اگر کسی ماہ تاریخ نہ ہو، بحث نہ ہو یا عدالت میں پیشی نہ ہو تو آپ کو وکیل صاحب کل فیس میں سے اس ماہ کی فیس واپس نہیں کرتے اور نہ ہی آپ اس کا مطالبہ کرتے ہیں. یہی اصول ایجوکیشن سیکٹر پر بھی لاگو ہوتا ہے. فرض کریں کہ ایک سکول کی ماہانہ فیس 1 ہزار روپے ہے تو سال کی فیس 12 ہزار ہوئی اب اگر کسی ماہ سکول بند ہے تو آپ دراصل اس ماہ کی فیس نہیں دے رہے بلکہ طے شدہ سالانہ فیس کی قسط ادا کر رہے ہیں. جس میں کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہے.
2. زیادہ تر سکول کرائے کی بلڈنگز میں موجود ہیں جن کا کرایہ 50 ہزار سے 20 لاکھ روپے ماہانہ تک ہے سکول کی نوعیت اور لوکیشن کے مطابق لہذا مالک بلڈنگ کسی ماہ کا کرایہ سکول کے مالک کو معاف نہیں کرتا اس وجہ سے کہ چھٹیاں ہیں اور سکول بند ہے. سکول بند ہو یا کھلا مالک مکان کرایہ مانگے گا اور سکول مالک کو کرایہ دینا ہو گا اور اسی لیے اسے فیس بھی لینی ہو گی.
3. سکول کے ساتھ سویپرز، مالی، چوکیدار، آیا، اکاؤنٹینٹ، ایڈمن سٹاف، ٹیچرز، وزیٹنگ فکلٹی اور دیگر تمام افراد کا روزگار وابستہ ہوتا ہے. لہٰذا ان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ. تین ماہ بغیر تنخواہ لیے گزار دیں فقط اس لیے کہ سکول بند ہے ان کے گھر کا چولہا ان کے روزگار سے وابستہ ہے اس لیے ان کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی چھٹیوں کی فیس لینی ہو گی.
4. سکول کے مالک کا روزگار بھی اسی سکول سے وابستہ ہے وہ ایک کاروباری فرد ضرور ہے لیکن ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ کسی بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور کو تین ماہ کے لیے بند کر دیا جائے تو اس سرمایہ دار کی مالی حالت کیا ہو گی؟ ملک میں ایک ہڑتال ہو تو کہا جاتا ہے اربوں کا نقصان ہو گیا. کیا تین ماہ کی ہڑتال سے اس سکول مالک اور اس سے متصل تمام افراد کا معاشی قتل نہیں ہو گا؟
5. زیادہ تر پرائیویٹ سکولز کی فیسیں 500 سے 2000 کے درمیان ہیں ایسے پرائیویٹ سکولز بمشکل اپنا سرکل چلاتے اور ایک بہت جائز رقم بچاتے ہیں جس سے وہ اپنے روز مرہ اخراجات پورے کرتے ہیں. چھٹیوں کی فیس لینے سے انہیں بجلی کے بلوں، آپریشنل ایکسپنسز اور دیگر مدوں میں جو رقم بچتی ہے اسی سے وہ اپنے سکولز کی حالت بہتر بناتے ہیں مزید تعمیرات کرتے ہیں یا پورے سال کا باقی ریپیئرنگ کا کام مکمل کرتے ہیں. اگر وہ چھٹیوں کی فیس نہ لیں تو یہ سب نہیں ہو سکتا.
6. پرائیویٹ کالج بچوں سے سالانہ پیکج طے کرتے ہیں اور دو تین قسطوں میں سارے پیسے لے کر بیٹھ جاتے ہیں تو والدین کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شائد کالج چھٹیوں کی فیس نہیں لیتے حالانکہ وہ سب سالانہ پیکج میں لے چکے ہوتے ہیں. پرائیویٹ سکول والدین کی سہولت کے لیے سالانہ فیس طے کرنے کی بجائے ماہانہ قسط وار فیس لیتے ہیں تو جب چھٹیوں کے ماہ آتے ہیں تو والدین محسوس کرتے ہیں کہ شائد چھٹیوں کی فیس مفت میں لی جا رہی ہے.
میری ارباب اختیار اور سول، سوشل و لیگل ایکٹیوسٹ سے گزارش ہے کہ پاپولس اپروچ لے کر پرائیویٹ سکولز کو بدنام نہ کیا جائے بلکہ ان کے مسائل کو سمجھ کر ان کی مدد کی جائے. پرائیویٹ سکولز کو بھی چاہیئے کہ اپنی فیسز کو حدود سے باہر نہ جانے دیں اور ایسا کوئی معیار ضرور مقرر کیا جائے کہ کن سہولیات کے بدلے کتنی فیس لی جانی چاہیے تاکہ والدین، پرائیویٹ سکولز مالکان، قومی ادارے، عدالتیں اور میڈیا درست سمت کی جانب آگے بڑھ سکیں

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here