کہاں ہے خادم پنجاب گڑھ مہاراجہ رورل ہیلتھ سنٹر میں سہولیات کا فقدان ایک اور مریضہ بچے سمیت جاںبحق صدائےعمار عماریاسر

0
58

گڑھ مہاراجہ رورل ہیلتھ سنٹر میں سہولیات کا فقدان ایک اور مریضہ بچے سمیت جاںبحق

صدائےعمار نوجوان صحافی ملک عماریاسر کے قلم سے

گڑھ مہاراجہ میں اندھیر نگری چوپٹ راج کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا جہاں ایک ہفتے کے دوران دوسرا واقع دیکھنے کو ملا ہے کہ سہولیات کا فقدان اور عملہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ایک اور خاتون بچے سمیت رورل ہیلتھ سنٹر کے آپریشن میں دم توڑ گئی ہے لواحقین کے مطابق ہسپتال میں کوئی عملہ موجود نہیں تھا تاہم ایک ایل ایچ وی موجود تھی جنہوں نے مریضہ کو آپریشن تھیٹر شفٹ کیا اور فون پر مصروف ہوں گئیں اسی دوران مریضہ بچے سمیت موت کی وادی میں چلی گئی افسوس سے کہنا پڑتا ہے آخر کب ہوگا انصاف اس سے پہلے بھی ایک مریضہ عملہ نہ ہونے کے باعث موت کی آغوش میں جا چکی ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے یہاں قانون نام کوئی چیز نظر نہیں آ رہی سب معاملہ دبانے کے لیے سر گرم ہوتے ہیں لیکن واقعہ کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جاتی یہاں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ ہسپتال میں عجیب صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے جہاں ایک گولی تک موجود نہیں جبکہ ڈی سی صاحب خاموش تماشائی ہیں دوسری جانب رورل ہیلتھ سنٹر کے انچارج کی جانب سے عجیب منطق دیکھنے کو ملتی ہے کہ رات کے اوقات میں ایمرجنسی میں کسی ڈاکٹر کی ڈیوٹی نہیں لگاتے نہ ہی کوئی ڈسپنسر موجود ہوتا ہے سارے ڈاکٹرز کی ڈیوٹی دن میں اور ڈسپنسرز کی ڈیوٹیاں بھی دن میں رات جو صرف آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ کی ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے جو نہ تو ایمرجنسی ڈیل کر سکتے نہ ان کے پاس ایسا کوئی تجربہ ہوتا ہے دوسری جانب رات کے اوقات میں ایک ایل ایچ وی موجود تھی جبکہ مڈ وائف چھٹی پے ہوتی ہیں افسوس ہے کہ انتظامیہ اس طرف توجہ کیوں نہیں دیتی آخر کیا وجہ ہے کے رات کے اوقات میں کسی ڈاکٹر یا ڈسپنسر کی ڈیوٹی کیوں نہیں لگائی جاتی اگر رورل ہیلتھ سنٹر کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں رہی تو روزانہ لاشیں اٹھانے کو ملتی رہیں گی انتظامیہ کو چاہیئے کی اس کا نوٹس لیں اور دونوں غریب خاندانوں کو. انصاف فراہم کیا جائے جبکہ دوسری جانب رات کی ڈیوٹی پر کوئی ڈاکٹر یا ڈسپنسر ایمر جنسی میں موجود کیوں نہیں ہوتا اس کا بھی نوٹس لیا جائے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here