تفسیر آیت : تحریر عبدالغفار

0
19

تفسیر آیت :
تحریر عاجز عبدالغفار
اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۝ۭ
’’ (اے اللہ!) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ‘‘

اللہ تعالیٰ کی عبادت معرفت الٰہی کے بغیرممکن نہیں۔
اسی لئے اللہ تعالٰی نے سورۃ الفاتحہ کی پہلی تین آیتوں میں اپنی بہترین صفات پر اپنی ثناء آپ بیان کرکے اپنے بندوں کو اپنی معرفت عطا کیا ہے۔ اس معرفت الٰہی کے ساتھ ساتھ بندے اپنے خالق و مالک کی قربت بھی حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اُس کے حضور میں پہنچ کر اُس خالق نے جس مقصد کیلئے انسان کو پیدا کیا ہے یعنی

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿الذاريات: ٥٦﴾
’’ میں نے جن و انس کو اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے‘‘۔

اس کیلئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں:

اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۝ۭ
’’(اے اللہ!) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں‘‘

یہاں لفظ ’ اِيَّاكَ ‘ کو جو مفعول ہے پہلے لایا گیا ہے اور پھر اسی کو دہرایا گیا ہے تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو جائے اور عبادت اور طلب مدد اللہ تعالٰی ہی کے لئے مخصوص ہو جائے تو اس جملہ کے معنی یہ ہوئے کہ ’’ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور نہ کریں گے اور تیرے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اور نہ کریں گے‘‘۔ کامل اطاعت اور پورے دین کا حل صرف یہی دو چیزیں ہیں۔

عبادت کو استعانت پر مقدم کرنا عام کو خاص پر مقدم کرنے کی نوع میں سے ہے۔نیز اللہ تعالیٰ کے حق کو بندے کے حق پر مقدم کرنے کا اہتمام ہے۔ اور یہ بھی کہ بندہ اپنی تمام عبادات میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد نہ فرمائے تو بندہ اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل اور اس کی منہیات سے اجتناب نہیں کر سکتا۔

بعض سلف کا فرمان ہے کہ سارے قرآن کا راز سورۃ فاتحہ میں ہے اور پوری سورت کا راز اس آیت ’’ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ‘‘ میں ہے۔

یہاں ’’ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ‘‘ کے ذریعے شرک سے بیزاری کا اعلان ہے‘ جس کی تشریح ذیل کی آیتیں کرتی ہیں:

وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا

’’ اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ‘‘۔ (النساء: ٣٦)
اور

قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّـهَ وَلَا أُشْرِكَ بِهِ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ (الرعد: ٣٦)

’’ فرما دیجئے کہ بس مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں ﷲ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراؤں، اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے‘‘ ۔ (الرعد: ٣٦)

اور جیسا کہ حدیث میں ہے:

’’ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‘‘
’’ نیکی کرنے کی اور برائی سے بچنے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں‘‘

لہذا ’’ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ‘‘ کے ذریعے بندہ میں اپنی طاقتوں اور قوتوں کے کمال کا انکار کرتا ہے اور اللہ عزوجل کی طرف اپنے تمام کاموں کی سپردگی کا اعلان کرتا ہے۔

اور اسی طرح ’’ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ‘‘ میں عبادت کو خالص اللہ کیلئے کرنے کا اعلان بھی ہے اور اللہ کا حکم بھی یہی ہے:

۔۔۔ فَاعْبُدِ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ (٢) أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ ۔۔۔(٣) سورۃ الزمر

’’ پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خالص عبادت کرنا ہے‘‘

اور

قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ (الزمر: ١١)

’’ فرما دیجئےکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کر لوں‘‘۔

قُلِ اللَّـهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي (الزمر: ١٤)

’’ کہہ دیجئے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اپنی عبادت میں مخلص ہوں‘‘۔

عبادت کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے کرنا اخلاص کہلاتا ہے۔

عبادات میں اگر اخلاص نہ ہو تو‘ وہ خواہشات نفس کی پیروی اور ریاکاری و دکھاوا ہے جو کہ شرک ہے‘ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا یا کسی اور کو عبادت میں شامل کرنا بھی شرک ہے۔ عبادت صرف اللہ کا حق ہے۔ لہذا اخلاص عبادت کا لازمی جز ہے اور عبادت کیلئے نیت کا ہونا شرط ہے۔ نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔
جو عمل نیت کے بغیر کیا جائے وہ عمل نہیں بلکہ فعل کہلاتا ہے جس کا کوئی اجر نہیں ہوتا کیونکہ ایسی عمل ہماری عادت ہوتی ہیں یا بن جاتی ہیں۔

لہذا نیت اور اخلاص کے ساتھ قرآن و سنت کے مطابق کیا ہوا ہرعمل عبادت کہلائے گا اور وہی رضائے الٰہی اور اجر و ثواب کا باعث بنے گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب تمام مسلمانوں کو نیت اور اخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نوٹ: قلت وقت اور آسانئ مطالعہ کی خاطر اس آیت کی تفسیر نہایت ہی اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہے‘ جبکہ قرآن کریم میں 150 کے قریب آیتیں بلاواسطہ اور قریب اتنی ہی آیتیں بالواسطہ اس آیت کی تشریح کرتی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here